یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 65 of 137

یادوں کے نقوش — Page 65

101 کلاس فیلو مکرم غلام حسین صاحب ایاز مربی سلسلہ سنگا پور جو تقریباً15, 16 سال سے ہجرت کے نامساعد حالات سے وہاں مقیم تھے اور کبھی رابطہ بھی نہ ہوا تھا کا ہے۔انہوں نے خط میں لکھا کہ برادرم ظفر صاحب عرصہ دراز کے بعد آپ کو یاد کر رہا ہوں جس کی وجہ یہ بنی کہ میں آج اپنے لئے بازار سے اچکن کا کپڑا لینے گیا تو مجھے یہ کپڑا پسند آیا میں نے آپ کے لئے بھی خرید لیا جو بطور تحفہ بھجوار ہا ہوں۔اطاعت نظام کا درس خاکسار کے والد نظام سلسلہ کی غیر معمولی و غیر مشروط اطاعت کے قائل تھے۔اس سلسلہ میں وہ کسی قسم کی دلیل ، تاویل وغیرہ کو قطعاً قبول نہ کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے اصل اطاعت یہ ہے کہ سچے ہو کر بھی جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔“ یہ غالباً 1950ء کا واقعہ ہے کہ جامعہ کے ہوٹل میں خدام الاحمدیہ کا اجلاس قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کی زیر صدارت ہورہا تھا۔میرے ساتھ بیٹھے ہوئے خادم نے قائد صاحب کی تقریر کے دوران کوئی ایسی بات کی جس سے قائد صاحب ڈسٹرب ہوئے۔آپ نے استفسار فرمایا کہ کون بولا ہے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے خادم نے میرا نام لے دیا جو سو فیصد غلط تھا۔اس پر قائد صاحب نے میرے لئے اجلاس سے نکل جانے کی سزا تجویز کی۔میرے لئے یہ سزا قابل قبول نہ تھی۔ایک تو میں صد فی صد بے گناہ تھا دوسرے ایک غلط فہمی یہ بھی تھی کہ ”میرے والد صاحب پروفیسر ہیں۔مجھے چاہئے تو یہ تھا کہ باوجود بے گناہ ہونے کے اطاعت کامل کا نمونہ پیش کرتے ہوئے فوراً اجلاس سے نکل جاتا لیکن میں نے اس کے برعکس اپنی بے گناہی پر احتجاج کرتے 66 “ 102 ہوئے کہا کہ میں اجلاس سے نہیں جاؤں گا۔میرے اس غلط رویہ پر قائد صاحب محترم نے خاکسار کی شکایت محترم مولانا ابوالعطا ء صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کی خدمت میں بھجوادی۔مکرم پرنسپل صاحب نے خاکسار کے لئے جو سزا تجویز کی اس کی تعمیل کا وقت بعد از نماز مغرب بیت الذکر احمد نگر مقرر ہوا۔مذکورہ تاریخ پر خاکسار بیت الذکر حاضر ہوا۔مکرم پرنسپل صاحب نے تجویز کردہ سزا سنا کر مجھے تعمیل کے لئے طلب فرمایا۔میں نے کھڑے ہو کر نہایت ادب سے عرض کیا کہ خاکسار خانہ خدا میں کھڑے ہو کر حلفاً عرض کرتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں۔سزا قبول کرنے سے گریز کرنے کی طرف مائل ہوا ہی تھا تو خاکسار کے والد صاحب محترم نے جو بیت الذکر میں تشریف فرما تھے۔گرج دار آواز میں فرمایا ”ناصر فوری تعمیل کرو۔خاکسار کو جس سہارے کی امید تھی ان کے واضح حکم کے بعد میرے لئے اب عدم تعاون ناممکن تھا۔چنانچہ خاکسار نے فوراً مکرم پرنسپل صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر تجویز کردہ سزا قبول کی اس طرح والد صاحب محترم نے اپنے نیک عمل سے خاکسار کو اطاعت نظام کا ایسا سبق سکھایا جو تازیست یادر ہے گا۔انشاء اللہ قرآن کریم سے عشق آپ کو قرآن شریف کے ساتھ عشق بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جنون کی حد تک پیار تھا آپ نے اپنے بچپن میں خواب دیکھا کہ قرآن کریم میرے سینہ میں چمک رہا ہے۔آپ کا سارے کا سارا عرصہ حیات اس خواب کی روشنی میں اور اس کی عملی تعبیر کی تلاش اور سعی میں ہی گزر گیا۔قرآن شریف کی مدح میں نہ صرف آپ نے بزبان عربی اپنے جذبات کا اظہار کیا بلکہ اس سلسلہ میں آپ نے اردو میں بھی ” میری آرزو" کے عنوان سے ایک جاندار نظم کہی۔قرآن شریف کے ساتھ اس غیر معمولی لگن