یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 23 of 137

یادوں کے نقوش — Page 23

19 فارم پر جمع ہوئے۔چنانچہ علاقہ کے معروف رہنماؤں کے اصرار پر آپ نے انہیں وقت دیا جس میں متحارب گروپوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ان میں درج ذیل بڑے بڑے عمائدین شامل تھے۔جھنگ کی نامور شخصیت کرنل عابد حسین صاحب مرحوم، مہر دوست محمد صاحب لالی سابق ایم پی اے و سابق ممبر وفاقی مجلس شوریٰ ( جنرل ضیاء دور ) ملک محمد ممتاز صاحب نسو آ نہ ایڈووکیٹ سابق ایم پی اے وسابق وائس چیئر مین ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ،مہر غلام حیدر بھروانہ مرحوم سابق ایم این اے سردار صغیر احمد صاحب مرحوم سابق چیئر مین بلد یہ چنیوٹ و سابق صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ صاحب سابق چیئر مین یونین کونسل بخش والا ، مہر غلام عباس صاحب لالی ، ملک محمد نواز صاحب نسو آنہ کا نڈی وال سابق وائس چیئر مین ڈسٹرکٹ بورڈ ضلع جھنگ، اور مہر احمد یار صاحب رمانہ سیال، ڈسٹرکٹ کونسلر حلقہ بھوانہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔مذکورہ بالا تمام افراد نے علاقہ کی مجموعی فلاح و بہبود کیلئے ایک آزاد گروپ“ تشکیل دیا۔جس کا مقصد علاقائی سیاست کو قدیم علاقائی اور خاندانی بندھنوں سے آزاد کرا کے تعمیری سوچ دینا تھا۔اور علاقہ کی خدمت و نمائندگی کا حق چند مخصوص اور محض رئیس گھرانوں تک محدود رکھنے کی بجائے اس خدمت میں تعلیم یافتہ روشن خیال، اہل اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو بھی آگے لانا تھا۔چنانچہ اس مثبت سوچ اور اتحاد کے باعث پہلی مرتبہ علاقہ کے معروف رؤساء کے مقابلہ میں آزاد گروپ کی طرف سے ملک محمد ممتاز خان نسو آنہ بی۔اے ایل ایل بی ،صوبائی امیدوار اور مہر غلام حیدر بھروانہ مرحوم قومی اسمبلی کے امیدوار نامزد ہوئے۔ان دونوں اصحاب کی آزاد گروپ میں شامل تمام افراد نے بھر پور تائید کی جس کے نتیجہ میں قومی اسمبلی میں آزاد گروپ کے امیدوار مہر غلام حیدر بھروانہ جیت گئے۔جب بھروانہ صاحب کی کامیابی کا اعلان “ 20 20 چنیوٹ کے پولنگ اسٹیشن سے کیا گیا۔تو وہ سب سے پہلے شکریہ ادا کرنے کے لئے آزاد گروپ کے ہمراہ ربوہ تشریف لائے۔حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحب اتفا قار بوہ میں موجود نہ تھے۔چنانچہ وہ سیدھے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکر یہ ادا کیا۔آپ نے انہیں قیمتی نصائح سے نوازا۔صوبائی امید وارا اگر چہ جیت تو نہ سکے لیکن یہ اتحاد اور انتخاب علاقہ میں آزاد اور تعمیری سوچ رکھنے والے متوسط طبقہ کے لوگوں کو ایک مخصوص بندھن سے آزاد کرانے کے لئے سنگ میل ثابت ہوا۔یہ ابتدائی کوشش تھی جو انجام کار اس طرح کامیاب ہوئی کہ سال 1977ء میں ملک محمد ممتاز صاحب حضور کی تائید و حمایت سے ایم پی اے منتخب ہو گئے۔اس کے بعد تا حال ہر انتخاب میں اس علاقہ کے متوسط طبقے کے افراد جو آزاد گروپ سے منسلک تھے ان میں سے کوئی نہ کوئی منتخب ہوتا چلا آرہا ہے۔حضور کی زندگی کے آخری ایام تک ان سرکردہ رہنماؤں کا حضور سے قریبی رابطہ رہا اور وہ ہر کٹھن مرحلہ پر حضور کی رہنمائی حاصل کرتے رہے اور حضور بھی باوجو دخلافت کی عظیم ذمہ داریوں کے، علاقہ کے اجتماعی مفاد اور بھلائی کے پیش نظر ان لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے قیمتی لمحات عطا فرماتے رہے۔حضور سے خاکسار کی تین آخری ملاقاتیں جو ماہ مئی 1982ء میں ہوئیں ان میں ایک ملاقات میں حضور نے اس گروپ کا ذکر کرتے ہوئے ایک سرکردہ رکن کے بارے میں بعض ہدایات عطا فرمائیں۔بھروانہ صاحب کی وہ جرات جو انہوں نے ایک مرحلے پر جماعت احمدیہ کی تائید میں دکھلائی اس کے پیچھے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا ان کے ساتھ خلوص اور شفقت تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو ان کی وفاداری کا مکمل احساس تھا۔چنانچہ جب بھروانہ صاحب موصوف نے 1970ء میں جمعیت العلمائے پاکستان کے ٹکٹ پر جھنگ کے حلقہ سے انتخاب لڑا تو