یادوں کے نقوش — Page 130
227 “ 228 مکرم مولوی مبارک احمد صاحب طور خوبرو اونچے لانے صحت مند و توانا صحیح معنوں میں جوانوں کے جوان انتہائی مخلص احمدی 68 سالہ میاں مبارک احمد صاحب طور سکنہ احمد نگر مقیم جرمنی مورخہ 13 جولائی 1993ء کو اچانک کھانا کھانے کے بعد چند ہی لمحات میں اپنے مولی حقیقی سے جاملے۔موصوف بے شمار خوبیوں کے مالک تھے آپ نے ان گنت نہ بھولنے والی یادیں چھوڑی ہیں جماعتی نکتہ نگاہ سے آپ نے جو ایثار و قربانی اخلاص و فدائیت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔آج مختصراً ان کا ذکر خیر مطلوب ہے۔آپ 1923ء میں مکرم میاں فضل حق کے ہاں چک نمبر 434 گ ب تحصیل جڑانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔احمدیت آپ کو اپنے جد امجد مکرم میاں غلام محی الدین صاحب ( رفیق بانی سلسلہ ) کے طفیل ورثہ میں ملی تھی اب ان کی چھٹی نسل بفضل تعالیٰ احمدیت کی برکات سے فیض یاب ہوری ہے۔ابتدائی تعلیم کے بعد 1945ء میں حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کی تحریک برائے شمولیت دیہاتی مربیان پر آپ کے والد محترم نے آپ کو وقف کر کے سلسلہ کے سپرد کر دیا تھا۔سال 47-1946ء تک آپ مدرسہ احمدیہ میں زیر تعلیم رہے۔سال 1947ء کے آغاز میں آپ کی تقرری بطور دیہاتی معلم ترگڑی ضلع گوجرانوالہ میں کر دی گئی تھی۔چند ماہ کے بعد حفاظت مرکز کے سلسلہ میں قادیان واپس بلا لئے گئے۔پھر اکتوبر 1947 ء میں پاکستان بھجوا دیئے گئے۔مرکز نے انہیں دوبارہ ترگڑی میں ہی تعینات کر دیا۔جہاں اپنے فرائض منصبی نہایت عمدگی اور لگن سے سرانجام دیتے رہے۔وعظ و نصیحت کا نہایت عمدہ رنگ تھا۔اچھے مقرر ہونے کے ساتھ اسلوب مناظرہ سے بھی خوب واقف تھے۔آپ نے اپنی خود نوشت ڈائری میں اپنے دعوت الی اللہ کے بے شمار ایمان افروز واقعات قلمبند کئے ہوئے ہیں۔جن کے پڑھنے سے آپ کے اخلاص ، قابلیت اور اپنے کام سے لگن اور عشق کا واضح احساس ہوتا ہے۔آپ دعوت حق کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔اجتماعی اور انفرادی رابطوں کے علاوہ دیہات میں جہاں بھی کوئی میلہ لگتا تو یہ پیغام حق پہنچانے کے لئے فور اوہاں پہنچ جاتے۔عیسائی پادریوں سے بھی خوب تبادلہ خیال کرتے آپ کی محنت خلوص اور دعا سے اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی پھل عطا فرمائے جن میں سے اس وقت کئی خود شمر دار ہیں بلکہ وہ مزید پھل حاصل کرنے کی سعادت پارہے ہیں۔ایس سعادت بزور بازو نیست آپ کے شوق اور رابطوں کے جنون کا یہ عالم تھا کہ انجمن نے واقفین کو کچھ عبوری امداد دی۔آپ نے اس سے گھریلو ضروریات پوری کرنے کی بجائے دور دراز علاقوں کا دورہ کرنے کی سہولت کے پیش نظر سائیکل خرید لیا جس پر آپ گجرات تک دورے کرتے رہے۔تر گڑی تعیناتی کے دوران آپ نے فرقان فورس / بٹالین میں نہ صرف خود شامل ہو کر جنگ کشمیر میں حصہ لینے کی سعادت پائی بلکہ قرب و جوار کی جماعتوں سے بھی بڑی تعداد میں رضا کا ربھجوانے کا ثواب حاصل کیا۔سال 1967ء میں آپ مستقل احمد نگر میں آگئے اور پھر وہیں کے ہی ہو گئے۔آپ جماعت احمد یہ احمد نگر کے انتہائی مخلص فعال اور نڈر کا رکن تھے۔داعی الی اللہ کے کام میں تو صف اول کے احباب میں شمار ہوتے تھے۔جماعت کے ہنگامی کاموں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔خوددار باہمت مرد میدان تھے۔اوائل میں جب بچے زیر تعلیم تھے کوئی معقول ذریعہ معاش نہ تھا مشکل وقت میں کسی کے آگے دست سوال دراز کرنے کی بجائے اپنے بچوں کے ہمراہ گندم کی