یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 113 of 137

یادوں کے نقوش — Page 113

193 احسان ہوگا۔آپ نے حامی بھر لی۔قربانی کے دوسرے دن آپ 10/12 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے گائے کا رسہ اور گانی فروخت کنندہ کو دے کر آئے۔جماعتی خدمات آپ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن نمود و نمائش یا خود نمائی کا شائبہ تک کبھی بھی دکھائی نہ دیتا۔آپ کافی عرصہ جماعت احمدیہ بستی مندرانی کے صدر رہے ہیں اور دم واپسیں تک آپ بطور زعیم انصار اللہ جماعت تونسہ شریف میں خدمات سرانجام دینے کی سعادت پاتے رہے۔ایک سال آپ کو مجلس مشاورت میں اپنے علاقہ کی نمائندگی کا شرف بھی حاصل ہوا۔جب ربوہ تشریف لائے تو ربوہ میں مقیم آپ کے جملہ رشتے داروں کی دلی خواہش تھی کہ ہمارا یہ بزرگ دعا گو در ولیش بھائی ہمارے گھر آئے اور قیام کرے تا کہ ان کی دعاؤں سے ہم فیض یاب ہوسکیں۔خاکسار کو مجلس مشاورت کے دوران صدر انجمن احمدیہ کے بیرون گیٹ پر ٹل گئے۔مصافحہ معانقہ بار بار کرنے کے بعد از خود بولے ناصر خان میں معذرت خواہ ہوں آپ کے گھر نہیں آسکا۔یہ معذرت جس محبت اور دل آویز مسکراہٹ اور اپنائیت کے ساتھ کر رہے تھے میں شرمندہ ہو رہا تھا۔میں نے عرض کیا بہر کیف ہم چشم براہ رہیں گے۔فرمایا دل کی بات بتاؤں دارالضیافت کے قیام اور بیت المبارک سے قربت اور وابستگی میں جو سکون اور راحت میسر آ رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔اگر خدا نے توفیق دی تو اب جب آیا تو تب ضرور رہوں گا۔اس کے بعد مورخہ 26 جون 1999 ء کو ایسے آئے کہ تاقیامت ربوہ کے ہی ہو کر رہ گئے۔آپ کی وفات پر جب دفتر وصیت نے آپ کا حساب چیک کیا تو بفضل تعالیٰ “ 194 کھاتے میں زائد رقم جمع کروا چکے تھے۔آپ زندگی بھر دوسروں کے کام آتے رہے۔خود کبھی بھی کسی پر بوجھ نہ بنتے۔آپ نے وفات سے قبل اپنے کفن بکس اور تونسہ سے ربوہ تک کا کرایہ بس و دیگر اخراجات حساب کر کے الگ اپنے صندوق میں رکھے تھے۔ساتھ ہی یہ وصیت لکھی ہوئی تھی کہ میرے سفر آخرت پر کسی پر بوجھ نہیں ڈالنا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کے سفر آخرت پر برادری بس لے کر آئی۔سفر و حضر کے تمام اخراجات باوجود عزیزوں کی خواہش کہ ہم اپنے اس بزرگ بھائی کے سفر آخرت پر خرچ کرنے کی سعادت حاصل کریں کسی کو بھی خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی کیونکہ ان کی وصیت کا سب کو احترام تھا۔آپ مورخہ 25 جون 1999 ء کو مختصر سی علالت کے بعد 68 سال کی عمر میں اپنے مولیٰ حقیقی سے جاملے۔26 جون 1999ء کو ان کی نماز جنازہ دارالضیافت میں مکرم و محترم سید خالد احمد شاہ صاحب ناظر بیت المال نے پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں بعد از تدفین مکرم شاہ صاحب نے ہی دعا کروائی۔موصوف نے اپنے پیچھے سو گوار بیوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔احباب سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ لے اور جملہ پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔(روز نامہ الفضل 15 نومبر 1999ء)