یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 104 of 137

یادوں کے نقوش — Page 104

“ 175 “ 176 چنانچہ اس دن سے بہتی گل گھوٹو احمد پور میں بدل گئی اور اب اسی نام سے یہ بستی معروف ہے۔مقدمات کی تفصیل 1976ء میں ڈیرہ غازی خان شہر کے مخالفین کے چیلنج مناظرہ پر مناظرہ کا اہتمام ہوا۔جماعت کی طرف سے مکرم سلمان صاحب مربی سلسلہ اور مکرم ماسٹر خان محمد صاحب فاضل پیش پیش تھے۔جب کہ مکرم عبدالماجد خان صاحب صدر جماعت (موجودہ امیر ضلع ) کی معاونت اور رفاقت بھی شامل تھی۔جب مخالفین دلائل اور براہین کے میدان میں پسپا ہونے لگے تو نقص امن کے حالات پیدا کر دیئے گئے۔جس پر مخالفین کے دباؤ پر پولیس نے مکرم مولوی خان محمد صاحب اور مکرم عبد الماجد خان صاحب کے خلاف مقدمہ درج کیا اس پر دونوں مخلصین کو گرفتاری اور راہ مولا میں اسیری کی سعادت نصیب ہوئی۔واقف حال کے بیان کے مطابق جب مکرم خان محمد صاحب کے ہاتھ میں ہتھکڑی پہنائی گئی تو آپ نے اسے بوسہ دیا اور بڑے پر اعتماد انداز میں فرمایا۔ہم خوش نصیب لوگ ہیں کہ راہ مولیٰ میں لوہے کے کنگن پہنے کا اعزاز نصیب ہوا۔یہ آپ کی پہلی گرفتاری تھی۔آپ 1983ء میں امیر ضلع منتخب ہوئے۔مقدمات کا یہ سلسلہ 1999 ءتک جاری وساری رہا۔اپنی گرتی ہوئی صحت کے باعث آپ نے مکرم محترم جناب ناظر اعلیٰ صاحب سے درخواست کی کہ میری خرابی صحت کے باعث جماعت کے کاموں میں حرج ہورہا ہے میری جگہ کسی اور کو نامزدفرما دیں جس پر مورخہ 7 جولائی 1999ء کو آپ کی درخواست منظور کر لی گئی۔اس طرح آپ قریباً 16 سال امیر ضلع ڈیرہ غازی خان ے آپ 2001 ء میں امیر ضلع ڈیرہ غازی خان تھے۔رہے۔آپ کے عرصہ خدمات بحیثیت امیر ضلع شروع ہوتے ہی 1984 ء کے دور ابتلاء کا آغاز ہوا جو مسلسل دراز ہوتا چلا گیا۔جوں جوں ابتلاء بڑھتا گیا تو فیق ایزدی سے آپ کا حوصلہ جواں بلکہ آپ خود بھی جوانوں کے جوان ہوتے چلے گئے۔آپ نے انتہائی جرات و فراست اور دوراندیشی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نامساعد حالات میں جس استقامت سے مقدمات اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔آپ ان خوش نصیب احباب جماعت و عہدیداران میں سے ہیں جنہیں نہ صرف خود بلکہ ان کے پانچ بیٹوں میں سے تین بیٹوں کو بھی مقدمات و اسیری کی سعادت نصیب ہوئی۔آئندہ سطور میں آپ کی استقامت در پیش مسائل مقدمات کا مختصر ذکر ہوگا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسلسل مقدمات کے باوجود جماعتی خدمات میں بفضلہ تعالیٰ آپ کا قدم آگے سے آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔نصرت الہی کا غیر معمولی واقعہ ایک دفعہ آپ اکیلے ریلوے روڈ پر جا رہے تھے۔چند شر پسند نوجوانوں نے پیچھے سے آلیا اور آوازے کسنا شروع کر دیئے۔جوں جوں ان کے شور شرابے میں اضافہ ہوتا چلا گیا آپ انتہائی وقار اور بے نیازی کے عالم میں اعتدال کے ساتھ زیر لب دعائیں کرتے ہوئے چلتے رہے نہ پیچھے مڑ کر دیکھا نہ ہی رفتار تیز کی۔اچانک پیچھے سے ایک موٹر سائیکل سوار کی آواز سنائی دی جس نے آوازے کسنے والوں کو انتہائی جرات اور سخت الفاظ میں سرزنش کی۔اس شخص کی تنبیہہ میں اتنی سختی اور رعب تھا کہ وہ سب مرعوب ہوکر منتشر ہو گئے۔وہ فرشتہ صفت وجود کون تھا اس کو مکرم امیر صاحب نے نہ تو مڑ کر دیکھا اور نہ ہی