یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 103 of 137

یادوں کے نقوش — Page 103

“ 173 “ 174 گئے اور مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے 1950ء میں احمد نگر میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔آپ کی شادی 1949ء میں ہوئی۔اس کے بعد آپ نے محکمہ تعلیم میں بطور عربی مدرس ملازمت اختیار کر لی۔آپ اپنی محنت شاقہ ، شاگردوں سے ہمدردی اور بہترین نتائج کے باعث قابل اور ہر دلعزیز اساتذہ میں شمار کیے جاتے تھے۔ان کے شاگرد بعد میں جس جس محکمہ یا شعبہ جات میں گئے وہ آپ کی غیر معمولی عزت و تکریم کرتے رہے خصوصاً بطور امیر ضلع جب بھی کوئی مقدمہ مسئلہ اجتماعی یا انفرادی نوعیت کا سرکاری دفاتر میں گیا تو آپ کی وجہ سے مشکل سے مشکل مسئلہ آپ کے شاگردوں کے تعاون سے احسن رنگ میں حل ہو جاتا۔اعلیٰ کردار کی غیر معمولی مثال آپ انتہائی جرات مند نڈر بے باک مرد میدان تھے۔چیلنج اور اصولی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹ جاتے تھے۔حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔اس سلسلہ میں صرف ایک مثال ہدیہ قارئین ہے۔آپ جب گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 ڈیرہ غازی خان میں تعینات تھے تو مخالفین اور معاندین نے آپ کو وہاں سے تبدیل کروانے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔جب بھی آپ کے کسی اور جگہ تبادلہ کے آرڈر آتے۔آپ متعلقہ افسران بالا کے پاس براه راست حاضر ہو کر حکمت اور ادب کے تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ موقف اختیار فرماتے کہ اگر میرا تبادلہ میری ناقص کارکردگی کے باعث کیا گیا ہے تو مجھے قبول ہے اور اگر مذہبی تعصب کی بنا پر تبادلہ کیا گیا ہے تو یہ احکامات سراسر غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں۔اس پر جب آپ کے نتائج کا ریکارڈ سامنے آتا تو افسران بالا تبادلے کے احکامات منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتے۔آپ اپنی محنت ، شاندار نتائج اور اصولی موقف کے باعث مسلسل 23 سال ایک ہی سکول میں تعینات رہے۔جرات مند داعی الی اللہ آپ انتہائی بہادر انسان تھے۔دور اندیشی اور حکمت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جرات سے دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق پاتے رہے ہیں۔آپ جب فاضل پور حال ضلع راجن پور میں تعینات تھے۔اپنے رفقاء اور حلقہ احباب کو دعوت حق پہنچانے کا کوئی مناسب موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔بعض متعصب جب دلائل سے عاجز آگئے تو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت آپ کو شہر سے باہر لے گئے تا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی آواز کود بادیا جائے۔آپ مخالفین کے ارادوں کو بھانپ گئے تھے لیکن انتہائی خود اعتمادی سے ان کے ساتھ ہنستے کھیلتے چلتے رہے۔آپ جہاں دیدہ اور دور اندیش انسان تھے جہاں چند مخالف تھے وہاں بیسیوں غیر از جماعت آپ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے تھے ان دوستوں کو کسی ذریعے سے جب علم ہوا تو وہ فوراً پہنچ گئے جس سے مخالفوں کے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے۔گل گھوٹو سے احمد پور تک حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب منصب امامت پر فائز ہونے سے قبل جب گل گھوٹو تشریف لائے تو آپ نے ماسٹر خان محمد صاحب سے استفسار کیا کہ واقعی آپ کی بستی کا نام گل گھوٹو ہے تو اثبات پر جواب ملنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جس بستی میں کثیر تعداد میں احمدی ہوں اور دیگر تعلیم یافتہ احباب بھی موجود ہوں تو ایسا نام قطعاً زیب نہیں دیتا۔اس پر ماسٹر صاحب نے درخواست کی کہ آپ اس کا متبادل نام تجویز فرما دیں آپ نے بلا توقف فرمایا ” احمد پور