یادوں کے نقوش — Page 91
“ 151 “ 152 گئے ایسے ہی خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے فضلوں سے نوازا۔حضرت مسیح موعود کا یہ شعرے ز بذل مال در راہش کے مفلس نے گردو خدا خود مے شود ناصر اگر ہمت شود پیدا صحیح معنوں میں آپ پر چسپاں نظر آتا ہے۔ذالک فضل الله یوتیہ من یشاء بلال مارکیٹ بلد یہ ربوہ کی عمارت اور ریلوے پھاٹک اقصی روڈ کے مابین بلد یہ ربوہ کے بعض اہل کار خالی پلاٹ پر بلدیہ کے سہارے اپنا قبضہ اور تصرف قائم کرنے کا ابھی منصوبہ بنا ہی رہے تھے کہ محترم حکیم صاحب نے مرکز سلسلہ سے خصوصاً حضرت مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی کے مشورہ اور منظوری سے مذکورہ پلاٹ پر دکانیں وغیرہ تعمیر کرنے کے لئے نقشہ جات منظور کروائے اور ان کی تعمیر کے اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت ان مخلصین جماعت سے حاصل کئے جنہیں بعد میں بغرض کاروبار کا نہیں الاٹ کرنا مقصود تھا۔اس بروقت منصوبہ بندی اور کارروائی کے نتیجہ میں یہ غیر معمولی کروڑوں روپے کے پلاٹس قبضہ گروپ کے ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رہے جس کے بعد مخلص احمدی کا روباری بھائیوں کو مذکورہ دکانیں الاٹ کی گئیں جس کے نتیجہ میں انہیں روزگار کی باعزت سہولتیں میسر آئیں۔مکرم حکیم صاحب نے اپنی نگرانی میں 26 دکانیں تعمیر کروائیں جبکہ بقیہ خالی جگہ پر مزید دس دکانوں کی بنیادیں بھی بھروائیں۔اس طرح اب تک کل 36 دکا نہیں بن چکی ہیں۔مکرم صدر صاحب عمومی کی دور اندیشی کے نتیجہ میں یہ پلاٹ نہ صرف محفوظ ہوا۔بلکہ اس کا بلا شرکت غیرے جماعتی تصرف میں آنا اقصیٰ روڈ کو آنے والی کئی قباحتوں سے محفوظ کر گیا۔( الحمد للہ علی ذالک ) شادی ہال کی تعمیر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے مکرم صدر صاحب عمومی کو ہدایت فرمائی کہ بیت مہدی گولبازارر بوہ سے ملحقہ پلاٹ جو گولبازار میں دل کی حیثیت رکھتا ہے پر عمارت کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر با قاعدہ بلد یہ ربوہ سے نقشہ منظور کروا کر اسے رفاہ عامہ کے مصرف میں لایا جائے۔سو بفضل اللہ تعالیٰ 2 ستمبر 1992ء کو نقشہ منظور کروایا گیا۔اس سلسلہ میں اس وقت کے بلدیہ کے چیئر مین مکرم سید محمد نواز شاہ صاحب کا غیر معمولی تعاون حاصل رہا۔نقشہ کی منظوری کے بعد کچھ عرصہ بوجوہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خاموشی رہی۔بعد ازاں مکرم ناظر صاحب اعلیٰ کا ارشاد موصول ہوا کہ مذکورہ پلاٹ پر فوری چار دیواری تعمیر کروائی جائے۔جس کی تعمیل میں 12, 13 نومبر 1992ء کو بنیادوں کی کھدائی وغیرہ کا کام شروع کروایا گیا۔جب 14 نومبر کو کام شروع ہوا تو بعد دو پہر معاندین کے دباؤ کے تحت مقامی آرایم صاحب ربوہ نے فون کیا کہ آپ غیر قانونی تعمیر کروا رہے ہیں۔اسے فور روک دیں۔ساتھ ہی پولیس پارٹی بھی موقع پر بھجوادی۔جس پر محترم حکیم صاحب نے اصولی اور زور دار موقف اختیار کیا کہ ہم منظور شدہ نقشہ کے مطابق تعمیر کر رہے ہیں۔ساتھ ہی نقشہ کی کاپی بھی بھجوادی اور کام کو جاری رکھا۔آرایم صاحب نقشہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ معترضین نے مجھے غلط اطلاع دی ہے۔بعد از ملاحظہ نقشہ آرایم صاحب نے اعتراف کیا کہ آپ کی تعمیر با ضابطہ اور قانونی ہے۔لیکن معاندین نے حسب عادت حقیقت واضح ہو جانے کے باوجود انتظامیہ پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا کہ کسی نہ کسی طرح کل تک تعمیر رکوا دیں۔تا کہ وہ حکم امتناعی حاصل کر سکیں۔رات دس بجے تک تقریباً 1/3 کام مکمل ہو گیا۔افسران بالا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر