یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 18 of 137

یادوں کے نقوش — Page 18

9 “ 10 صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ہیں۔جو قافلہ کی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے قادیان سے ہی قافلے کے آگے پیچھے جیپ پر ساتھ آرہے ہیں۔حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی یہ پہلی زیارت تھی جس نے میرے دل میں ان کی غیر معمولی جرات اور احباب جماعت سے والہانہ محبت کے انمٹ نقوش چھوڑے۔جو تا زیست زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج میں سوچتا ہوں تو حضرت میاں ناصر احمد صاحب کی بہادری اور دلیری پر حیران ہوتا ہوں کہ اس پر آشوب دور میں جب کہ قدم قدم پر موت منہ کھولے کھڑی تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کس جرات ، اطمینان اور تسلی سے جیپ پر سوار ہو کر قافلوں کی نگرانی فرمارہے تھے۔پہلی ملاقات تعلیم الاسلام کالج کی لاہور سے ربوہ منتقلی کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کالج اور دیگر جماعتی مصروفیات کے باوجود ربوہ کے اطراف کے غیر از جماعت احباب سے ذاتی رابطہ اور تعلق کو بھی خصوصی اہمیت دیتے تھے۔1959ء میں جب بنیادی جمہوریت کے انتخابات ہوئے تو ربوہ سے باہر حضرت میاں صاحب کی زیادہ تر توجہ کا مرکز احمد نگر تھا۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے احمد نگر ربوہ کا صدر دروازہ ہے۔جسے ہر لحاظ سے مضبوط ہونا چاہئے۔اسی پس منظر میں احمد نگر کے حلقہ سے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم کو بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایت کی اور ان کی کامیابی کے لئے خصوصی توجہ بھی کی گئی۔چنانچہ حضرت مولانا احمد نگر کی یونین کونسل کے بی ڈی ممبر منتخب ہو گئے۔بعد میں تعلقات کی وسعت حضرت صاحبزادہ صاحب کی اس علاقہ کے لوگوں کی سماجی، اخلاقی اور روحانی تربیت کی طرف توجہ مرکوز کرنے کا باعث بن گئی۔چونکہ جماعت احمدیہ خالصتاً مذہبی جماعت ہے اس لئے آپ کا اس علاقے کی سیاست سے تو کوئی سروکار نہیں تھا۔لیکن علاقہ کے معززین کا سماجی تعلق حضرت صاحبزاہ صاحب سے دن بدن بڑھتا گیا۔یہاں کے سرکردہ لوگوں سے آپ کے قریبی روابط تھے۔آپ ان لوگوں سے ہمیشہ مخلصانہ اور مشفقانہ ہمسائیگی کا حق ادا کرنے کی سعی فرماتے تھے۔حضرت میاں صاحب چاہتے تھے کہ ربوہ کے ہمسایہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ یہ لوگ بھی زندگی کے ہر میدان میں ترقی پائیں۔اس پس منظر میں حضرت میاں صاحب کے نافع الناس وجود نے اپنی گونا گوں تعلیمی و دینی مصروفیات کے باوجود رابطہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ایسے لوگوں کی دلداری تا دم آخر فرماتے رہے۔آپ ہر معاملہ میں خالصتاً دینی اور اخلاقی نقطہ نظر سے ان لوگوں کی عمومی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہتے۔1960ء کی بات ہے کہ آپ نے اپنی غیر معمولی مصروفیات کے پیش نظر مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب آف دفتر انصار اللہ ، جو اُن دنوں احمد نگر میں مقیم تھے، سے کہا کہ آپ مجھے کسی ایسے مخلص ، سوشل اور سماجی ذہن رکھنے والے احمدی نوجوان کے بارہ میں بتا ئیں جو اس علاقہ اور ماحول سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور وہ میری ہدایات کے مطابق اس علاقہ کے لوگوں سے رابطہ اور تعلق کا فریضہ بھی بخوبی انجام دے سکے۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ موصوف نے اس کام کے لئے خاکسار کا نام پیش کیا۔جس پر آپ نے فرمایا اس کو کل گیارہ بجے میرے پاس کالج کے دفتر میں بھجوا دیں۔خاکسار حسب ارشاد وقت مقررہ پر حاضر خدمت ہوا۔حضرت صاحبزادہ صاحب چونکہ میرے والد محترم کے شفیق اور مہربان دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مکتب بھی تھے اس لئے آپ نے خصوصی شفقت فرمانے کے علاوہ اس علاقہ اور