یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 135 of 137

یادوں کے نقوش — Page 135

237 “ 238 مکرم چوہدری علی شیر صاحب مورخہ 26 فروری 1972ء یعنی دس محرم کو جماعت احمد یہ احمد نگر کے مخلص و جاں نثار بزرگ چوہدری علی شیر صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا۔انا للہ وانا الیہ راجعون آپ ہمو وال ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔1922ء کے قریب آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کیا۔آپ کی اہلیہ محترمہ آپ کے احمدی ہونے سے قبل احمدیت قبول کر چکی تھیں۔وہ بچپن میں حضرت منشی محمدعبداللہ صاحب سنوری سے قرآن شریف پڑھا کرتی تھیں اس لئے حضرت منشی عبداللہ صاحب کے قبول احمدیت کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے بھی بیعت کر لی۔چوہدری صاحب اپنی اہلیہ صاحبہ سے ان کے قبول احمدیت کی بناء پر سخت ناراض رہتے تھے۔بسا اوقات انہیں طلاق دینے پر بھی آمادہ ہو جاتے تھے۔بعض اوقات تو زدوکوب سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ان کی اہلیہ صاحبہ جب بھی اپنی تکلیف کا حضرت منشی عبداللہ صاحب سے ذکر کرتی تھیں تو آپ فرماتے:۔صبر کرو اللہ تعالی علی شیر کو ہدایت دے دے گا۔“ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کا دعائیہ فقرہ تھوڑے ہی عرصہ بعد حقیقت بن کر سامنے آ گیا اور چوہدری علی شیر صاحب نے ایک خواب کی بناء پر احمدیت کو قبول کر لیا۔قبول احمدیت کے بعد چوہدری صاحب کی مخالفت شدت اختیار کر گئی۔آپ کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے مگر آپ کے پائے استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔آپ اگر چہ بالکل ناخواندہ تھے لیکن آپ کو تبلیغ احمدیت کا بہت شوق تھا۔علم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے علماء کرام کو قادیان سے بلواتے اور ان سے تقاریر کرواتے اور مسائل دریافت کرتے رہتے آہستہ آہستہ انہوں نے بے شمار مسائل ذہن نشین کر لئے اور پھر نہایت عمدہ پیرائے اور سادہ طریق پر تبلیغ کرتے رہتے۔آپ حق گو اور حق پرست انسان تھے۔مظلوم کو اس کا حق دلانے میں پوری کوشش سے کام لیتے تھے احمد نگر کے نہ صرف احمدی احباب بلکه بیشتر مقامی غیر از جماعت دوست بھی چوہدری صاحب کو اپنے تنازعات میں ہمیشہ حکم اور ثالث نامزد کرتے۔آپ کو جب کبھی احمد نگر میں کسی لڑائی جھگڑے کا علم ہوتا تو آپ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے جب تک فریقین میں صلح نہ کروا لیتے۔آپ کے فیصلوں کو لوگ دل و جان سے تسلیم کرتے۔جب ہم چوہدری صاحب کے جنازہ سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک مقامی غیر از جماعت دوست نے کہا کہ آج ہم یتیم ہو گئے ہیں۔ہمارا ہمدرداور شفیق باپ آج ہم سے جدا ہورہا ہے۔فی الواقع آپ غریبوں اور مظلوموں کا سہارا تھے۔آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔باوجود زمیندارہ شغل کے آپ باقاعدگی سے تمام نماز میں مسجد میں باجماعت ادا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔وفات سے چند یوم قبل بھی جب کہ آپ بمشکل لاٹھی کے سہارے چند قدم چل سکتے تھے۔آپ باقاعدگی سے مسجد پہنچتے رہے جب طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو ظہر کی نماز پڑھ کر مسجد میں ہی ذکر الہی میں مصروف رہتے اور عصر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد گھر تشریف لے جاتے۔آپ خلیفہ وقت کی اطاعت اور نظام سلسلہ کی پابندی میں منفرد مقام رکھتے تھے۔جب کبھی احباب جماعت میں کسی انتظامی معاملہ میں اختلاف رائے ہو جاتا تو درمیان میں آجاتے اور احباب جماعت کو مقامی تنظیم اور مرکز کی ہدایات کی تعمیل پر زور دیتے۔آپ فرماتے کہ مقامی مرکزی عہدے داروں کے احکام کی تعمیل در اصل