یادوں کے نقوش — Page 108
مکرم بشیر احمد خان صاحب مند رانی بلوچ 183 تونسہ شریف کا قصبہ جو ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ہے محتاج تعارف نہیں ہے۔وہ رود کو ہی ستگھرہ کے شمالی کنارے واقع ہے اس نسبت سے عرصہ دراز تک تحصیل تونسہ شریف تحصیل سکھر، کے نام سے موسوم و معروف رہی ہے۔اس رود کو ہی کے جنوب مغربی کنارے دامن کوہ سلیمان میں مندرانی بلوچوں کا مسکن ہے جو بستی مندرانی کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔یہ بستی دنیاوی لحاظ سے عرصہ دراز تک زندگی کی ہر سہولت سے محروم رہی لیکن اس بستی کے چند سر کردہ افراد نے جو روحانی فیض پایا۔اس سے وابستہ رہنے والے کسی بھی فرد نے بفضل تعالیٰ دنیاوی تشنگی محسوس نہیں کی۔1901 ء میں حضرت بانی سلسلہ کی آواز پر اس بستی کے چند سر کردہ احباب کو لبیک کہنے کی سعادت نصیب ہوئی، ان میں ہمارے دادا جان حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی کا نام قابل ذکر ہے۔آج یہ عاجز اپنے تایا زاد بھائی مکرم بشیر احمد خان صاحب کے ذکر خیر کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔آپ مورخہ 4 اپریل 1931ء کو بستی مندرانی میں پیدا ہوئے۔آپ کا بچپن طالب علمی جوانی اور پھر عرصہ ملازمت قابل رشک حد تک علاقہ بھر میں نیک نمونہ کے طور پر مشہور و معروف تھا۔آپ نے تمام امتحانات اعزاز کے ساتھ پاس کئے آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ اپنے گاؤں کے پہلے شخص ہیں جو ایم۔اے اردو، ایم۔اے اسلامیات اور ایم ایڈ تھے اور سکیل 19 پر مثالی خدمات سرانجام دے کر ریٹائر ہوئے۔آپ نے پرائمری کا امتحان اپنے گاؤں جب کہ میٹرک کا امتحان تونسہ شریف “ 184 سے پاس کیا۔آپ حصول تعلیم کے سلسلہ میں 18 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرتے رہے۔آپ انتہائی سادہ درویش صفت پابند صوم و صلوۃ کم گولیکن خوش گفتار اور راست باز نافع الناس شخصیت کے مالک تھے۔ہم مکتبوں سے ہمدردی آپ جب پرائمری کے طالب علم تھے رخصت ہونے پر گھر آئے والدہ صاحبہ نے کھانا دیا تو آپ نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کیا جبکہ دوسرے ہاتھ کو کپڑے میں چھپائے رکھا۔والدہ صاحبہ نے استفسار کیا کہ آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا ہے۔آپ نے اخفاء کی کوشش کی لیکن والدہ صاحبہ کے اصرار پر بتایا کہ لڑکے شرارتیں کر رہے تھے کہ اچانک ماسٹر صاحب آگئے۔انہوں نے کہا کہ بشیر احمد تم ہمیشہ سچ بولتے ہو سچ سچ بتاؤ کہ کون کون شرارت کر رہا تھا۔میں نے بتانے سے گریز کیا اور خاموش رہا جس پر مجھے ماسٹر صاحب نے مارا۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ بیٹا آپ بتا دیتے۔اس پر بشیر احمد خان صاحب نے کہا اماں جی معصوم بچوں کو میری گواہی پر سزا ملتی۔میں نے خاموش رہ کر خود مارکھانے کو ترجیح دی۔آپ تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔اپنی ملازمت کے دوران آپ نے اپنی محنت اور طلباء سے ہمدردی اور ان کی فلاح و بہبود اور ماتحتوں سے ہمدردی کا جو نیک نمونہ قائم کیا وہ سرکاری و غیر سرکاری ملازموں کے لئے قابل رشک ہے۔جس کی چند مثالیں عرض کرتا ہوں۔طلبہ سے شفقت آپ جب بھی کسی کلاس میں جاتے تو طلبا کا یہ جائزہ لیتے کہ ان میں سے ب سے زیادہ مفلس کونسا طالب علم ہے۔ایسا طالب علم آپ کی توجہ اور ہمدردی کا