یادوں کے نقوش — Page 102
“ 171 “ 172 مخالفین نے ایک اور چال چلی اپنے بڑے پیروں اور فقیروں کو اکٹھا کیا اور ان سے بد دعا کرائی جس کے الفاظ درج ذیل ہیں جو ہزاروں افراد کی موجودگی میں کہے گئے۔1۔سردار پیر بخش نے اگر احمدیت نہ چھوڑی تو ذلت کی موت مرے گا۔قبر کا نام ونشان باقی نہ رہے گا اور قبر کو خدائی آگ لگے گی۔2۔ہماری آنکھوں کے سامنے ذلت کی موت مرے گا۔3۔اس کی اولا دہم پیروں کے در پر پلے گی اور ذلت کی زندگی بسر کرے گی۔4۔اگر احمدیت نہ چھوڑی تو اس کی بستی کا نام ونشان مٹادیا جائے گا۔بددعا کے یہ کلمات سن کر سردار صاحب نے بڑے جلال سے فرمایا: ”اے سجادہ نشینوں اور پیروسنو!“ آج بانی سلسلہ کا یہ ادنی غلام ساری قوم کو گواہ بنا کر کہتا ہے کہ جو کچھ تم نے میرے متعلق بددعا کی ہے یہ سب کچھ تمہارے ساتھ ہوگا اور یہ تمہارے اور میری قوم کے لیے حضرت بانی سلسلہ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ثابت ہوگی۔خدا کے مامور بانی سلسلہ کے ادنی غلام کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ جس شان و شوکت سے پورے ہوئے وہ آج تاریخ میں سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہیں۔۔۔۔مثلاً 1 - عشرہ بھی نہیں گزرا تھا کہ جھکڑ امام شاہ میں جہاں بڑے بڑے سید پیروفن 3۔پیروں اور سجادہ نشینوں کی بستی کا حال نہ پوچھو۔دریائے سندھ بستی جھکڑ امام کو ہڑپ کر چکا ہے بڑے محلات و مکانات دریا برد ہو چکے ہیں۔4۔وہ سید جن کو اپنی گدیوں اور فقیری پر ناز تھا ان کی اولا دکو پناہ ملی تو صرف اور صرف سردار پیر بخش کے گھر میں۔اپنا بچا کھچا اثاثہ اٹھا کر در بدر کی ٹھوکریں کھا کر آخر کارسردار صاحب۔۔۔۔۔کی بستی گل گھوٹو میں رہائش اختیار کر لی جب کہ سردار پیر بخش خان صاحب اور ان کی اہلیہ صاحب خاتون صاحبہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں اپنے آقا اور محسن کے قدموں میں دفن ہیں۔آپ کی وفات پر ساری جماعت ڈیرہ غازی خان نماز جنازہ کے لئے اکٹھی تھی۔وو جب آپ کو نہلایا گیا تو جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخموں کے نشان نہ ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے آپ کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد آپ کے بیٹے سردار یار محمد خان صاحب کو فرمایا: آپ کے والد علاقہ میں روشنی کے مینار تھے آپ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں مکرم سردار صاحب بھر پور کامیاب و کامران طویل عمر پا کر مولائے حقیقی کے پاس حاضر ہوئے۔اب ان کے خاندان کے تقریباً 200 نفوس احمدیت کے نور سے فیض یاب ہورہے ہیں۔جو حضرت مسیح موعود کی دعا اک سے ہزار ہوویں کے مصداق بن رہے ہیں۔تھے اور پیروں کے آباؤ اجداد کی قبریں تھی ان قبروں کو آگ لگ گئی جس نے پورے ماسٹر خان محمد صاحب کی پیدائش و تعلیم قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس واقعہ نے سجادہ نشینوں کو ہلا کر رکھ دیا۔2۔ایک ایک کر کے بڑے بڑے پیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے سردار پیر بخش صاحب کو اتنی لمبی عمر دی کہ سب بڑے پیران کی آنکھوں کے سامنے کوچ کر گئے۔آپ 14 جون 1926 ء کو بمقام گل گھوٹو میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازیخان میں حاصل کی۔مکرم حکیم عبد الخالق صاحب رفیق بانی سلسلہ کی رہنمائی پر مزید تعلیم کے لیے جلسہ سالانہ 1939 ء کے موقعہ پر اپنے والد محترم کے ساتھ قادیان