یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 86 of 137

یادوں کے نقوش — Page 86

141 گھر سے کوئی مزدور بچوں کی روٹی کمانے نکلا تو راستے میں اٹھالیا گیا ایسے ہی جو طالب علم سکول کالج جا رہے ہوتے ان کو بھی دبوچ لیا جاتا۔یہی حال دکانداروں کا تھا اگر چوکی میں محبوس بھائیوں کیلئے کوئی چائے وغیرہ لے کر گیا تو اس کو بھی حراست میں لے لیا جاتا۔جس طرح مکرم خواجہ مجید احمد صاحب ( اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے) جن کا گولبازار میں ہوٹل تھا 25-30 افراد کیلئے چائے وغیرہ لے کر پولیس اسٹیشن گئے چونکہ آپ کا اکثر پولیس میں آنا جانا رہتا تھا خواجہ صاحب ویسے بھی سوشل مزاج کے آدمی تھے۔پولیس کے عملہ نے چائے تو فوراً آگے بڑھ کر لے لی اور خواجہ صاحب کو بازو سے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا۔اس طرح حالات بگڑتے گئے حتی کہ مورخہ 11 جون 1974 ء کو صدر عمومی مکرم و محترم چوہدری بشیر احمد خان صاحب اور مکرم عبدالعزیز صاحب بھامبڑی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ان کی گرفتاری کے معاً بعد مکرم مولوی محمد صدیق صاحب کو عارضی چارج ملا۔چند دنوں کے بعد لائبریری میں صدران صاحب کا اجلاس ہوا جس میں صدران نے مکرم ملک حبیب الرحمن صاحب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو صدر عمومی منتخب کیا موصوف انتہائی مخلص تجربہ کار بزرگ تھے۔دن بدن لاقانونیت بڑھتی گئی۔چونکہ محترم ملک حبیب الرحمن صاحب عمر رسیدہ بھی تھے۔ان نامساعد حالات میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے محترم حکیم صاحب کولوکل انجمن احمدیہ کا صدر عمومی نامزد فرمایا تو کئی احباب حیران اور ششدررہ گئے۔آپ کی اعصابی کمزوری کا یہ حال تھا کہ گولبازار میں اپنی چھوٹی سی حکمت کی دکان سے بیت مہدی آتے تو سر پر تولیہ رکھ کر تشریف لاتے کہ کہیں سخت موسم ان کے اعصاب پر اثر انداز نہ ہو جائے اور دوسری طرف آپ غیر معمولی عالم دین بھی تھے جن کی ساری زندگی حصول علم میں ہی گزری۔لیکن بطور صدر عمومی ربوہ کے حالات سے نمٹنا اور انتظامیہ کے ساتھ حکمت سے معاملات طے کرنے جیسے کام آپ کی “ 142 شخصیت سے بظاہر متضاد لگتے تھے۔آپ نے کبھی تھانہ دیکھا تھانہ ایسے معاملات سے آپ کو کبھی واسطہ پڑا تھا۔لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا خدا کے خاص فضل اور امام وقت کی دعاؤں کے طفیل محترم حکیم صاحب کا ہر لمحہ اور ہر دن کا میابیوں اور کامرانیوں کی طرف بڑھتا ہی چلا گیا۔وہ پولیس جس سے آپ کا کبھی بھی پالا نہیں پڑا تھا۔اسی پولیس کو ہمہ وقت آپ کے مطب میں آتے جاتے دیکھا جانے لگا۔نچلے طبقے سے لے کر اعلیٰ افسران تک محترم حکیم صاحب کی غیر معمولی فراست ، منصف مزاجی اور اعلیٰ شخصیت کے معترف ہوتے گئے۔معاندین کی سازشیں آندھیوں کی طرح خس و خاشاک بن کر اڑ گئیں۔واقعی حضرت خلیفہ اسیح الثالث " کا آپ کو صدر عمومی نامز دفرمانے کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت اور انتہائی مناسب تھا۔ے خلافت ایک امامت ہے حصار عافیت ہے جو اس کے پانے والے ہیں وہ ہو جاتے ہیں لاثانی جو صالح اور مومن ہوں یہ دولت ان کو ملتی ہے لباس تقوی تن پر ہو تو ملتی ہے یہ سلطانی صدر عمومی کے عہدہ ملنے سے پہلے آپ حلقہ گولبازار کے صدر بھی تھے۔آغاز میں بیت مہدی سیدھے سادے ایک لمبے کمرے پر مشتمل تھی جبکہ آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔آپ نے مسائل کے باوجود اس کی تعمیر و توسیع کی طرف خاص توجہ دی۔گولبازار کی اہمیت اور اس کی مناسبت سے اس کی از سرنو تعمیر کا منصوبہ بنایا۔جب جملہ وسائل مہیا ہو گئے تو آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں بیت مہدی کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست پیش کی۔مورخہ 18 فروری 1973ء کو بیت مہدی کی پختہ عمارت کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی۔