یادوں کے نقوش — Page 85
“ 139 میں کبھی بطور S۔H۔O اور کبھی بطور انچارج سپیشل برانچ تعینات رہے۔حکیم صاحب نے ان کو دیکھتے ہی کہا کہ چوہدری صاحب آپ کی وردی بہت بوسیدہ ہو چکی ہے۔مطب کے ایک ملازم کو کہا کہ فلاں کپڑے کی دوکان کے مالک کو اور ان کی دکان کے درزی کو فوراً لے کر آؤ۔دوسرے ملازم کو کہا چائے بنوا لا ؤ۔جب دونوں مالک اور درزی تشریف لائے تو صدر صاحب عمومی نے کہا کہ S۔H۔O صاحب کی وردی کا ماپ لیں۔بہترین کپڑے کی دو وردیاں تیار کر کے فوری چوہدری صاحب کو تھانہ پہنچا ئیں۔S۔H۔O صاحب کے کپڑوں کی سلائی کی قیمت مجھ سے آ کرلیں جلد ہی S۔H۔O صاحب کا ربوہ سے تبادلہ ہو گیا۔چند ماہ کے بعد ان کی ربوہ میں دوبارہ تعیناتی ہو گئی۔خاکسار کا مکان تھانہ کے بالکل قریب ہے۔دروازہ پر دستک ہوئی تو دیکھا کہ ایس ایچ او صاحب ہاتھ میں ایک درخواست لئے کھڑے ہیں۔بیٹھک کھول کر ان کو بٹھایا۔کہنے لگے فیصل آباد کے ایک مولوی نے کمشنر صاحب کو یہ درخواست دی ہے کہ ربوہ میں قادیانی نوجوان قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔اس کا کمشنر صاحب کو مشورے سے جواب لکھنا ہے۔چنانچہ میں نے S۔H۔O صاحب اور کمشنر صاحب کے مناصب میں غیر معمولی فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے محتاط تحر یکھنی شروع کی۔مجھے فرمایا کھرا کھرا جواب دینا ہے محتاط جواب نہیں دینا۔آپ نے کمشنر صاحب کو درج ذیل چند الفاظ میں جواب بھیجوا دیا۔66 تھانہ ربوہ قادیانی بچوں نوجوانوں کی کھیل کود پر رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔“ تھانہ میں ہر مزاج اور ہر قسم کے پولیس افسر آتے رہے۔تقریباً سبھی محترم صدر صاحب عمومی کے ساتھ تعاون کرتے۔پولیس کے چھوٹے بڑے افسر آپ کا احترام کرتے۔اور اگر حکیم صاحب کبھی تھا نہ جاتے تو سبھی پولیس ملازمین خور دو کلاں بڑھ چڑھ کر آپ کا استقبال کرتے۔“ جماعت اور خلافت سے قلبی لگاؤ 140 آپ کو خلافت سے بہت لگاؤ اور محبت تھی۔ہر تحریک اور ارشاد پر پہلی فرصت میں لبیک کہتے۔1984ء کے پر آشوب دور میں جب حضرت خلیفہ المسیح الرابع کو لندن ہجرت کرنا پڑی۔ایک وقت تو ایسا آیا کہ یوں لگتا تھا کہ خلیفہ وقت سے رابطہ بالکل کٹ گیا ہو لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا اور حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کے خطبات جمعہ کی آڈیو کیسٹس لندن سے آنا شروع ہوگئیں اور جماعت میں جیسے جان سی پڑ گئی۔محترم حکیم صاحب نے اس دور میں حضور کے خطبات جمعہ کو ہر احمدی کو سنانے کا بیڑا اٹھایا اور اس میں حتی المقدور کا میاب بھی ہوئے۔آپ نے حضور کے خطبات جمعہ کی آڈیو کیسٹس کی تقسیم نہ صرف محلہ جات میں بلکہ گھروں تک پہنچانے کا بھی انتظام فرمایا۔اس سلسلہ میں آپ نے جب حضور کور پورٹ بھجوائی تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے 26 ستمبر 1993ء کو اپنے ایک خط میں فرمایا۔” مواصلاتی رابطوں سے استفادہ کے متعلق رپورٹس موصول ہوئیں۔(جزاکم الله احسن الجزاء في الدنيا والآخرة ) ماشاء اللہ ساری رپورٹس بڑی خوش کن ہیں۔الحمد للہ ثم الحمد للہ خلافت اور مجددیت سے متعلقہ میرے خطبات پر آپ کی طرف سے اور اہل ربوہ کی طرف سے کامل وفاداری پر بے حد شکریہ۔(جزاکم اللہ احسن الجزاء) مجھے یقین ہے کہ جماعت ربوہ بے فاؤں میں نہیں بلکہ وفاداروں میں ہے۔اللہ جماعت کو ہر فتنے سے کلیتا محفوظ و مامون رکھے۔آمین اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔“ جب آپ کا تقر ر بطور صدر عمومی ربوہ ہوا تو شہر کے حالات بہت خراب تھے۔اس کے بارہ میں اگر یہ کہا جائے کہ اندھیر نگری اور چوپٹ راج تھا تو بے جانہ ہوگا بلکہ سچ اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس اندھیرنگری کا صحیح نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچا جا سکتا۔اگر صبح