یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 76 of 137

یادوں کے نقوش — Page 76

“ 121 احمد نگر کے نشیبی گھرانوں کی مستورات اور بچوں کو چند خدام کے ہمراہ ربوہ پہنچایا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خاکسار اور برادرم ارشا د احمد شبیر صاحب جو طلباء جامعہ میں سے تقریباً سب سے کم عمر تھے، کی ڈیوٹی آپ نے استاد محترم ابوالحسن قدسی صاحب کی اہلیہ محترمہ اور ان کے چھوٹے بچوں کو ربوہ ہمراہ لے جانے کی لگائی۔چنانچہ ہم نے ریلوے لائن کے راستہ ان کو پیدل ربوہ پہنچایا۔استاد محترم حضرت مولانا نے فوری طور پر خدمت خلق کا جامع منصوبہ تشکیل دیا۔اور طلباء جامعہ کو منظم طریق سے پانی میں گھرے ہوئے افراد، ان کے اموال اور مویشیوں کو نکالنے پر مامور کر دیا۔تقریباً ایک ہفتہ خدمت خلق کا یہ سلسلہ جاری وساری رہا۔جس سے اہالیان احمد نگر بے حد متاثر ہوئے۔حکومت کی طرف سے بی۔ڈی ممبران کے لئے پندرہ روز ٹرینگ لازمی قرار دی گئی تھی۔یونین کونسل بخش والا اور یونین کونسل احمد نگر کا ٹریننگ سنٹر احمد نگر کی بجائے بخش والا پس پردہ محرکین نے افسران بالا سے منظور کرالیا۔جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ بعض محرکین حضرت مولانا کی علمی شخصیت سے اس قدر مرعوب تھے کہ وہ سامنا کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ یونین کونسل بخش والا کے چیئر مین صاحب کافی معمر اور بہت بڑے جاگیر دار تھے ان کی طرف سے ممبران کے لئے طعام و قیام کی کشش جاذبیت کا موجب تھی۔بعض حضرات کو یقین تھا کہ بخش والا جو احمد نگر سے 12,10 کلومیٹر کوٹ قاضی کی نہر سے بھی کافی آگے ہے اور اس وقت کچھی سڑک تھی۔آمد ورفت کے ذریعے نہ ہونے کے برابر تھے۔مولوی صاحب کا پہنچنا ناممکن ہے اور اس طرح اپنی غیر حاضری کی وجہ سے رکنیت سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ رکنیت برقرار رکھنے کے لئے ٹرینگ میں حاضری لازمی قرار دی گئی تھی۔لیکن محترم مولانا صاحب کی اولوالعزمی اور فرائض سے لگن نے تمام ممبران اور افسران کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔آپ باقاعدگی سے “ 122 بر وقت روزانہ بخش والا اپنی سائیکل پر تشریف لے جاتے رہے۔ٹریننگ دینے والے مکرم محمد اسلم ہاشمی صاحب اور افسران بالا جو لیکچر دیتے اگر چہ ان کا علم و مرتبہ مولوی صاحب کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھا لیکن استاد مکرم نے اپنی علمی برتری بلند پایہ شخصیت کے باوجود ٹریننگ کے پروگرام سے بے نیازی نہ فرمائی بلکہ فرض شناسی اور مرکز کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داری کو کمال توجہ اور انہماک سے نبھایا۔اساتذہ جونوٹ بھی لکھواتے آپ باقاعدگی سے نوٹ فرماتے۔پندرہ روزہ ٹریننگ کے بعد جب الوداعی پارٹی ہوئی تو انچارج ٹرینینگ مکرم محمد اسلم ہاشمی صاحب اور دیگر افسران نے حضرت مولوی صاحب کی فرض شناسی سو فیصد حاضری اور قابلیت کی دل کھول کر تعریف کی کہ ہم نے تحصیل چنیوٹ (حال ضلع چنیوٹ) کے تمام تربیتی مراکز کا جائزہ لیا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے جتنی دلچسپی سے ہم جیسے طفل مکتب لوگوں کے ساتھ تعاون فر ما یا وہ اپنی مثال آپ ہے۔مهمان نوازی بحیثیت ممبر یونین کونسل اور پھر صدر جماعت احمد نگر آپ کے پاس سرکاری ملازمین پولیس افسران اور سادہ لوح دیہاتی بھائی آتے رہتے تھے۔آپ ان کی سطح کے مطابق ان سے گفتگو فرماتے اور وقت کے مطابق ان کی ضیافت بھی ضرور فرماتے۔آپ کی اصل جماعتی اور جامعہ کی مصروفیات لامتناہی تھیں۔اس کے باوجود آپ کو نظام سلسلہ نے جو بھی ضمنی فرض سونپا آپ نے کمال توجہ اور لگن اور محنت سے اس فرض کو خوب نبھایا۔آج بھی احمد نگر اور اردگرد کے ماحول کے غیر از جماعت بزرگ حضرت مولوی صاحب کا ذکر خیر انتہائی عزت واحترام سے کرتے ہیں۔آپ کی شخصیت کا ہی اعجاز تھا کہ آپ کے وقت میں جماعتی اور ملکی سطح کے بلند منصب پر فائز شخصیات احمد نگر میں تشریف لاتی رہیں۔جن میں سب سے عظیم