یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 64 of 137

یادوں کے نقوش — Page 64

99 99 تو کل اور صبر کا میٹھا پھل قرآن پاک کی تعلیم پر عمل کرنے کے باعث نصیب ہوا۔الحمد للہ قیام پاکستان کے موقع پر قادیان کے گردونواح میں بھی جب قتل و غارت کا بازار گرم تھا تو مرکز نے آپ کو کسی کام کے سلسلہ میں ملتان ڈویژن جانے کا حکم دیا۔ان پر خطر حالات اور مالی تنگدستی کے پیش نظر آپ ساری رات دعاؤں اور نوافل میں مصروف رہے جب صبح کی نماز کا وقت قریب ہونے کو تھا تو آپ کو سجدہ میں زور سے آواز آئی هو الذي احياكم و یعنی خدا نے تجھے موت کے بعد زندگی بخش دی۔چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم بخیریت پاکستان پہنچ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ زادراہ کی مشکلات کا بھی انتظام فرما دے گا۔انشاء اللہ۔آپ کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ آپ ملتان پہنچ پاتے جبکہ مرکز سے کرائے وغیرہ کی بات کرنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا۔چنانچہ اس اثناء میں دروازہ پر دستک ہوئی آپ نے باہر جا کر دیکھا تو ایک شخص اس پیغام کے ساتھ 50 روپے لئے حاضر تھا کہ یہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے سفری اخراجات کے سلسلہ میں آپ کی طرف بھجوائے ہیں اور ساتھ ہی فرمایا کہ مزید رقم کی ضرورت ہو تو بتا دیں۔والد صاحب مزید رقم لئے بغیر جس قافلہ کے ساتھ قادیان سے لاہور پہنچے وہ تمام بفضلہ تعالیٰ بخیریت اپنی منزل پر پہنچ گیا۔یہ وہ قافلہ تھا جو بوجہ شدید بارش رات بٹالہ کیمپ میں رہا۔جب آپ 14, 15 سال کی عمر کے تھے اور آپ ایک سنسان ویرانے میں سے گزر رہے تھے کہ خانہ بدوش قوم کا ایک خونخوار کتا دو فرلانگ سے بھاگتا اور غرا تا ہوا آپ کی طرف لپکا۔کتے کے مالک نے دور سے آواز دی بھاگ جاؤ بھاگ جاؤ ور نہ یہ تمہیں کاٹ کھائے گا۔جبکہ بھا گنا بے سود تھا۔آپ نے خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے زیر لب دعائیں کرنی شروع کر دیں اور بھاگنے کی بجائے کتے کی طرف منہ “ 100 کر کے کھڑے ہو گئے۔کتا جب عین آپ کے قریب پہنچا تو یکدم رک گیا اور والد صاحب کی طرف دیکھ کر زور زور سے غرا تا اور گھورتا رہا آپ نے بھی اسے بغیر آنکھ جھپکائے دیکھنا شروع کر دیا۔ایک دومنٹ کے بعد کتے کی چیخ نکلی اور پیچھے جا گرا اور پھر گھر کی طرف واپس بھاگ گیا۔اس طرح آپ کے توکل اور قوت ارادی کے باعث آپ کو بفضلہ تعالی کوئی گزند نہ پہنچی۔یہ لاہور کا واقعہ ہے کہ آپ ایک دفعہ بذریعہ یکہ دہلی گیٹ (بیت الذکر ) کی طرف جارہے تھے۔اور اتفاق یہ کہ نہ یکہ بان کو معین جگہ کا پتہ تھا اور نہ ہی آپ کو۔ان دنوں عزیزم طاہر ظفر وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔اور آپ اسے ہی ملنے جارہے تھے۔آپ نے دعا کی کہ یا اللہ میری مدد فرما۔ابھی آپ نے بمشکل تمام یہ دعا مانگی ہوگی کہ اچانک سامنے سے طاہر نمودار ہو گیا اور اس نے آواز دی ”ابو جی اور یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آپ کی یہ مشکل حل فرما دی۔مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمد یہ احمد نگر نے جامعہ کے پروفیسر صاحبان کو فرمایا کہ مناسب ہو گا آپ اچکن وغیرہ پہن کر آیا کریں۔نامساعد حالات میں نئی اچکن /شیروانی وغیرہ سلوانا خاصہ مشکل تھا۔والد صاحب کے ایک ہم منصب جو بچپن میں ہم مکتب بھی تھے، مشورہ دیا کہ سنا ہے کہ خدام الاحمدیہ ربوہ کے دفتر میں کوٹ آئے ہوئے ہیں وہاں سے لے آتے ہیں۔والد صاحب نے حکمت سے مشورہ کو ٹال دیا کیونکہ یہ مشورہ آپ کے مزاج کے مطابق نہ تھا۔آپ نے دعا شروع کر دی کہ اے خدا ! تو غیبی امداد فر ما تا کہ مکرم پرنسپل صاحب کے حکم کی تعمیل ہو جائے اور دست سوال بھی نہ پھیلانا پڑے۔دوسرے دن ڈا کیئے نے ایک پارسل والد صاحب کو آکر دیا۔جب کھولا گیا تو اس میں گرم کپڑے کے علاوہ ایک خط بھی تھا۔آپ نے پہلے خط کھولا تو معلوم ہوا کہ یہ خط ان کے ایک