یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 63 of 137

یادوں کے نقوش — Page 63

98 “ 97 اور پھر عزیزم طاہر احمد ظفر کا ذکر کرتے۔عزیزم طاہر والد محترم کے سفر آخرت میں شامل نہ ہونے کے صدمہ کا ذکر بار بار تکلیف سے کرتا ہے۔آپ کا تو کل علی اللہ آپ انتہائی متوکل اور صابر و شاکر اور قانع طبع تھے۔عسر و یسر ہو کوئی ابتلا ء ہو آپ ہمیشہ راضی برضار ہے اور کبھی پریشان و نا امید نہ ہوئے۔آپ کی عملی زندگی اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ھے کتنا راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو اور اس رضا کا اظہار آپ نے اپنے ایک شعر میں یوں فرمایا: خوش نصیب ظفر آج تک جسے ہے دنیا کے حادثات پریشاں نہ کر سکے آپ کی صبر واستقامت اور آپ کی متوکلا نہ فکر کی چند ایک مثالیں پیش ہیں۔جب آپ کوٹ چٹھہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں رہائش پذیر تھے اور ذریعہ معاش بھی بڑا قلیل تھا۔انہی دنوں آپ کی چھوٹی بیٹی مبارکہ جو اپنی صورت و سیرت اور اپنی ذہانت آمیز عادات کی وجہ سے والد صاحب کو حد درجہ پیاری تھی۔اپنے تو اپنے غیر بھی اسے دیکھ کر بے حد پیار کرتے تھے۔اچانک وہ چاندی بیٹی بیمار پڑ گئی۔والد صاحب نے باوجود مالی تنگی کے ہر ممکن علاج معالجہ کی کوششیں جاری رکھیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور بالآخر چند ہی یوم میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔اس قصبہ میں کوئی احمدی نہ تھا آپ نے خود ہی جنازہ پڑھایا اور جنازہ میں بھی صرف ہم دونوں بھائی یعنی خاکسار اور برادرم منصور احمد ظفر شامل تھے۔یہ 1942ء کی بات ہے جب ہم دونوں ابھی چھوٹے بچے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے بعد از تدفین جب ہم گھر واپس لوٹ رہے تھے تو والد صاحب نے ایک گوشت کی دکان سے گوشت لیا “ اور گھر داخل ہوتے ہی مسکراتے چہرے کے ساتھ ہماری والدہ محترمہ کو سلام کہا اور فرمایا کہ ہم نے اپنی تدبیر کی اپنی بساط کے مطابق انتہاء کر دی لیکن تقدیر غالب آئی اب اس صدمہ کو قطعاً دراز نہیں کرنا۔گوشت روٹی پکائیں اور سب کھائیں۔اللہ تعالیٰ غیر معمولی صبر دے گا۔الغرض آپ نے اس حالت میں جس غیر معمولی صبر و شکر اور توکل کا اظہار فرمایا وہ آپ کے اس شعر کا مکمل خلاصہ تھا۔تدبیر بھی ہے قبضہ مولی تجھے مقام تو کل کا پھل تقدي تو گل عطا میں ظفر کرے قادیان میں جب آپ بطور طالب علم بورڈنگ میں رہتے تھے تو گھر سے کچھ عرصہ تک رقم نہ آنے کے باعث سپر نٹنڈنٹ صاحب نے آپ کا کھانا بند کر دیا۔آپ نے یہ عہد کر لیا کہ ارشاد خداوندی کے تحت کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کروں گا۔آپ تین دن اور دوراتیں بھو کے رہے شام کو ہوٹل میں طلباء گولہ پھینک رہے تھے۔آپ بفضلہ تعالیٰ فولادی اعصاب کے مالک اور جسمانی لحاظ سے بھی طاقتور تھے۔آپ نے گولہ پھینکا تو وہ دوسرے طلباء کے مقابلے میں زیادہ فاصلے پر جا گرا۔اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے استفسار فرمایا کہ ظفر آج تم کیا کھا کر آئے ہو۔اس پر آپ نے مودبانہ انداز میں کہا وہی جو آپ کھلا رہے ہیں اس پر فوری طور پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے آپ کا کھانا دوبارہ جاری کر دیا۔نیز از راہ شفقت مزید فرمایا کہ آج رات کا کھانا میرے گھر کھانا۔چنانچہ والد صاحب نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے فرمان کی تکمیل کی برکت سے نہ صرف میرا کھانا جاری ہوا بلکہ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے انتہائی پر تکلف کھانا خاکسار کو کھلایا جو میں نے قبل از میں ہوٹل میں نہ کھایا تھا۔اس طرح