یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 62 of 137

یادوں کے نقوش — Page 62

“ 95 55 نصیب ہوئی۔مکرم امیر صاحب جرمنی نے جو جلسہ سالانہ پر جرمن زبان میں تقریر کی اس کے اردو ترجمہ کی توفیق عزیزم طاہر ظفر کے حصہ میں آئی۔اس طرح (احمدیت ) کے اسٹیج پر پہنچنے کی والد صاحب محترم کی دلی دعا کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔الحمد للہ قول سدید 66 قرآنی تعلیم کے عین مطابق آپ ہمیشہ صاف اور سیدھی اور سچی بات کرتے مگر انداز بیاں کچھ ایسا دلنشیں اور ہمدردانہ ہوتا کہ آپ کی ہر بات دل میں اتر جاتی گویا دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے والا معاملہ ہوتا۔دینی فرائض کی بجا آوری کے علاوہ ہمیں بچپن میں ہی یہ تین نصائح کچھ ایسے رنگ میں کیں کہ وہ لوح حافظہ پر ہمیشہ ہمیش کے لئے ثبت ہو کر رہ گئی ہیں۔پہلی یہ کہ ہمیشہ سچ بولنا، دوسری یہ کہ گالی نہ نکالنا اور تیسری یہ کہ خیانت نہ کرنا اور بفضل اللہ تعالیٰ والد صاحب بزرگوارم کی مذکورہ تینوں نصائح پر عمل پیرا ہونے کی ہم حتی المقدور توفیق پیار ہے ہیں۔ہمارے گاؤں بستی مندرانی میں والد صاحب کے ایک انتہائی قریبی عزیز کو رات کو سوتے میں کسی نامعلوم شخص نے تیز دھار آلہ سے شدید ضرب لگائی جس سے چہرہ تقریبا دو نیم ہو گیا اور زندہ بچنے کی بظاہر کوئی امید نہ رہی۔میڈیکل رپورٹ پر تھانہ تونسہ شریف میں نامعلوم ملزم کے خلاف ارادہ قتل کا مقدمہ درج ہو گیا۔پولیس نے مشتبہ اور مخالف عناصر کو حراست میں لے کر تشدد اور تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیا۔والد صاحب محترم ان دنوں ڈیرہ غازی خان میں مقیم تھے۔اطلاع ملتے ہی فوراً تونسہ شریف پہنچے۔پہلے اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے الگ الگ ملاقات کی تو یہ عقدہ کھلا “۔96 کہ ملزم بھی اپنا ہی عزیز ہے نہ کہ کوئی مخالف۔چنانچہ حقیقت حال سے آگہی کے بعد آپ فوراً تھا نہ تشریف لے گئے جہاں چند بے گناہ اور مخالف عناصر کو دوران تفتیش تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔آپ نے متعلقہ تفتیشی افسر کو بعد از تعارف زیر تفتیش افراد کی موجودگی میں فرمایا کہ یہ لوگ تو قطعی بے گناہ ہیں۔مضروب اور ملزم دونوں ہی میرے عزیز ہیں۔میں آپ کو اصل ملزم پیش کرتا ہوں آپ انہیں رہا کر دیں تفتیشی افسر آپ کی اس صاف گوئی سے بے انتہاء متاثر ہوا اور فوری اپنے گھر گیا اور پینے کے لئے مشروب اور پنکھا وغیرہ بھی لایا اور کہا کہ میں نے آپ جیسا صاف گو شخص کم ہی دیکھا ہے۔آپ نے میری مشکل حل کر دی ہے۔چنانچہ مذکورہ افسر نے آپ کی اس صاف گوئی پر کہ چونکہ فریقین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، مدعی اور گواہان کے بیان اور تعاون کی روشنی میں مقدمہ خارج کر دیا جبکہ دوسری طرف وہ بے گناہ افراد جو ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے تھے وہ اور ان کے لواحقین آپ کی اس صاف گوئی سے اتنے متاثر ہوئے کہ وہ سب عمر بھر آپ کے گرویدہ اور ممنون احسان رہے۔1979 مئی کی بات ہے کہ ہمارا چھوٹا بھائی عزیزم طاہر احمد ظفر جرمنی کے لئے رخت سفر باندھ رہا تھا اور اس سلسلہ میں ساری تیاری تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگئی اور بالآخر 28 مئی کا و لمحہ روانگی بھی آن پہنچا تو بجائے اس کے کہ عہد پیری میں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سے جدائی کے جذبات سے مغلوب ہو کر افسردہ خاطر ہوتے ، وقت رخصت بڑی طمانیت سے فرمانے لگے طاہر بیٹا مجھ سے اچھی طرح مل لو شاید ہم دوبارہ نہ مل سکیں گے۔حالانکہ آپ اس وقت صحت مند تھے اور پھر واقعہ ایسا ہوا کہ آپ پیارے بیٹے طاہر سے دوبارہ نہ مل سکے۔اپنی علالت کے آخری دنوں میں اس کا ذکر خیر ضرور کرتے رہے مگر وہ بھی اس ترتیب سے کہ پہلے میرے بڑے بیٹے یعنی اپنے بڑے پوتے مبشر احمد ظفر جو اس سے پہلے جرمنی جا چکا تھا