یادوں کے نقوش — Page 61
93 رکھا۔اسی طرح ایک طالب علم جو ضلع راولپنڈی کا رہنے والا تھا وہ مولوی فاضل کے امتحان میں کامیاب نہ ہو سکا۔اسی اثناء میں موسم گرما کی تعطیلات ہو گئیں۔سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ان دنوں والد صاحب کی رہائش احمد نگر میں تھی۔والد صاحب جب ہوٹل گئے تو دیکھا کہ تقریبا سب لڑکے جاچکے ہیں جبکہ یہ افسردگی اور پریشانی کی حالت میں چار پائی پر بیٹھا ہوا ہے۔پوچھنے پر جواب دیا کہ میں فیل ہو گیا ہوں کس منہ سے گھر جاؤں گا اور اگر چلا بھی جاؤں تو وہاں مجھے کون پڑھائے گا۔والد صاحب نے اسے گلے لگایا اور کہا بس اتنا سا مسئلہ ؟ ٹھیک ہے تم تعطیلات یہیں گزارو میں تمہیں امتحان کی تیاری کروا دوں گا۔مذکورہ طالب علم نے احسان مند نگاہوں سے دیکھا اور زیر لب کچھ کہنے کی کوشش کی۔والد صاحب نے اس کی پریشانی کو اس کی وضاحت سے قبل ہی بھانپتے ہوئے کہا آپ کھانے کی فکر نہ کریں آپ اور میرا بیٹا ناصر ا کٹھے کھانا کھایا کریں گے۔چنانچہ بھی وہ مخلص دوست غریب خانہ پر تشریف لے آتے اور کبھی میں کھانا لے کر ہوسٹل چلا جاتا اور ہم دونوں بھائی اکٹھے کھانا کھاتے۔والد صاحب باقاعدگی سے مذکورہ طالب علم کو وقت دیتے رہے جس کے نتیجہ میں اس نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کی توفیق پائی۔الحمد للہ دعاؤں میں تاثیر والد صاحب کی دعا میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب تاثیر رکھ چھوڑی تھی۔آپ کی کہی ہوئی باتوں میں بھی ایک اثر تھا۔موضوع مذکور کے حوالے سے یوں تو ان گنت واقعات ہیں لیکن یہاں نمونہ کے طور پر صرف دو واقعات پر ہی اکتفا کروں گا۔جب خاکسار کی ولادت ہوئی تو والد صاحب نے اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 6 مارچ 1934 ء کے شمارہ میں جو اعلان ولادت شائع کروایا اس “ 94 میں خاکسار کے لئے ” نافع الناس“ وجود ہونے کے حوالے سے درخواست دعا کی تھی۔اب یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ باوجود اس حقیقت کے کہ خاکسار بالکل بے علم و ہنر تھا اور ہے لیکن اس پہلو سے ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی خاص حکمت اور مصلحت کے تحت ایسے ایسے اسباب پیدا کئے کہ میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجود بھی مجھے مذکورہ دعا کا مصداق بنے کی توفیق ملی۔الحمد للہ حالانکہ اس میں میرا کوئی کمال نہ تھا اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور والد صاحب کی دعاؤں کا اثر اور صلہ ہے۔اسی طرح والد صاحب نے عزیزم طاہر احمد ظفر کی پیدائش پر ایک نظم لکھی جو چار اشعار پر مشتمل تھی۔اس دعائیہ نظم کا ایک ایک لفظ عزیزم طاہر پر صادق آتا ہے۔اس نظم میں ایک جگہ آپ نے فرمایا ع اسلام کی سٹیج کا تو شہسوار ہو یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ عزیزم طاہر شروع جوانی میں ایک آزاد منش انسان تھا مگر اس دعا کے زیر اثر آہستہ آہستہ اس کی ایسی کایا پلٹی کہ وہ واقعی اس دعا کا مصداق نظر آنے لگا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے جرمنی میں سو بیوت کی تحریک جاری فرمائی تو مذکورہ با برکت تحریک کے تحت جرمنی میں سب سے پہلے جو بیت الذکر کی تعمیر ہوئی وہ بیت حمد تھی اور اس کی تعمیر کی سعادت بحیثیت ریجنل امیر عزیزم طاہر ظفر کے حصہ میں آئی۔(ایں سعادت بزور بازو نیست) یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے علاوہ اس کے اخلاص ہگن، محنت اور بشمول مالی قربانی کا ثمر ہے۔الحمد للہ اس طرح جرمنی کے علاوہ دیگر قریبی ممالک میں بھی عزیزم طاہر ظفر کو خدمت دین و دعوت الی اللہ کی توفیق میسر آ رہی ہے۔الحمد للہ عزیزم طاہر ظفر کو 1993 ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کی سعادت