یادوں کے نقوش — Page 60
غیر معمولی حافظه 91 اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ عطا کر رکھا تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم کے وقت ایک سال میں دو دو جماعتوں کا امتحان پاس کیا اور آپ کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ آپ جو کچھ پڑھتے تھے وہ آپ کو یاد ہو جاتا۔1929ء میں آپ بیمار پڑ گئے۔آپ کو اساتذہ کرام نے مشورہ دیا کہ آپ اس سال مولوی فاضل کا امتحان نہ دیں۔آپ نے جوابا عرض کیا کہ آپ مجھے اجازت دیں میں انشاء اللہ پاس ہو جاؤں گا۔سو اجازت ملنے پر آپ امتحان میں شامل ہوئے۔جامعہ احمدیہ قادیان کی طرف سے اس امتحان میں کل پندرہ طلباء نے شرکت کی تھی۔جن میں سے صرف سات پاس ہوئے جبکہ آپ نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور اول حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ) قرار پائے۔( بحوالہ احمد یہ گزٹ 19 جولائی 1929ء) آپ فرمایا کرتے تھے امتحان پاس کرنا تو معمولی بات ہے ہاں البتہ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا اور پوزیشن لینا یقینا محنت طلب کام ہے۔حماسہ و متنیتی عربی نظموں کی دو ضخیم کتا بیں ہیں جن کے مجموعی صفحات سینکڑوں کے لگ بھگ ہیں۔آپ اپنے شاگردوں سے فرماتے کہ آپ ان دونوں کتابوں میں سے کوئی مصرعہ پڑھیں۔اس کا دوسرا مصرعہ میں آپ کو زبانی سناؤں گا۔آپ نے جتنی بھی نظمیں اور نعتیں کہیں آپ کو نہ صرف وہ بلکہ اپنے اردو، عربی ، فارسی کلام کے علاوہ دیگر شعراء کرام کے اشعار بھی ہزاروں کی تعدا میں از بر تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے تو شیر خوارگی کا زمانہ بھی نہیں بھولا۔اس وقت کے بعض واقعات آپ ہمیں سناتے تھے۔“ شاگردوں سے دوستانہ تعلق 92 آپ اپنے شاگردوں سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے اور ان کے ساتھ انتہائی مخلصانہ ہمدردانہ اور دوستانہ تعلق رکھتے تھے۔کافی عرصہ تک آپ کی رہائش بطور ٹیوٹر ہوٹل اور سپرنٹنڈنٹ مدرسہ احمدیہ، احمد نگر میں ہی رہی تعلیمی اوقات کے علاوہ صبح و شام رات گئے جہاں بھی کوئی طالب علم اپنے کورس سے متعلق کوئی مسئلہ لے کر آتا آپ بخوشی وقت دے کر عقدہ کشائی کرتے۔بحیثیت انچارج ہوسٹل آپ صبح کی نماز سے قبل طلباء کو بیدار کرنے کے لئے ایک ایک طالب علم کے پاس جا کر ان کو جگانے کی بجائے ہوٹل کے صحن میں نہایت خوش الحانی سے بلند آواز میں قرآن پاک اور عربی اور اردو کے اشعار پڑھتے جس سے طلباء اٹھ کھڑے ہوتے۔یہ انداز انتہائی دلکش اور پرکشش ہوتا۔ایک دفعہ موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان ہو چکا تھا۔تمام طالب علم خوشی خوشی رخت سفر باندھ کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے۔شام کو جب والد صاحب ا محترم ہوٹل تشریف لائے تو ایک طالب علم مسعود احمد جو حیدرآباد (دکن) بھارت سے حصول تعلیم کے لئے آئے ہوئے تھے سے استفسار کیا ، مسعود احمد آپ نہیں گئے۔اس نے آبدیدہ ہو کر جواب دیا میں نے کہاں جانا ہے؟ والد صاحب محترم نے اس دبلے پتلے سیاہ فام لڑکے کو جس کی زبان میں لکنت بھی تھی گلے لگا کر کہا کہ آپ تیار ہو جائیں میں آج اپنے وطن ڈیرہ غازی خان جارہا ہوں۔آپ میرے ساتھ چلو گے۔مہربان شفیق اور ہمدرداستاد کی زبان سے یہ سنتے ہی اس کی پریشانی خوشی میں بدل گئی۔چنانچہ والد صاحب اس کو گرمیوں کی تعطیلات میں اپنے ساتھ منگر وٹھہ غربی تحصیل تونسہ ضلع ڈیرہ غازی خان لے گئے جہاں انہوں نے اسے اپنے بچوں کی طرح