یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 41 of 137

یادوں کے نقوش — Page 41

“ فرمائیں۔جن کے ذکر کی اس وقت چنداں ضرورت نہیں۔55 حضرت خلیفہ الثالث کا یہ طریق تھا کہ آپ انتخابات سے قبل ووٹ مانگنے کے لئے آنے والے امیدواروں کو بار بار آنے کی زحمت نہیں دیا کرتے تھے بلکہ ایک دو ملاقاتوں میں ہی اپنا واضح فیصلہ صادر فرما دیا کرتے تھے لیکن 1977ء کے انتخابات میں ووٹ مانگنے والوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں فرماتے تھے۔حضور اس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ جب انتخابات ہی نہیں ہونے تو ہم کیوں بلا وجہ فیصلہ کریں۔قانون کا احترام خاکسار کی موجودگی میں ایک دفعہ ایک (ڈی۔ایف او) فاریسٹ آفیسر احمدی نے کہا میرے علاقے میں جو جنگلات ہیں ان میں تیتر آجکل بہت ہیں۔حضور شکار کے لئے تشریف لائیں حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا تیتر کے شکار کی آج کل حکومت کی طرف سے ممانعت تو نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ممانعت تو ہے۔مگر میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ہوں۔جنگلات کے محکمے کا تمام عملہ میرے ماتحت ہے۔کسی کی باز پرس یا مداخلت کا کوئی امکان نہیں۔حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا آپ کا جنگل اور آپ پاکستان سے باہر ہیں یا پاکستان میں ہیں؟ پھر فرمایا قانون کے احترام کا تقاضا ہے کہ ممانعت کے ایام میں شکار قطعاً نہ کھیلا جائے۔حضور اپنے غیر از جماعت دوستوں کو قانون کے احترام کی اکثر نصائح فرمایا کرتے تھے۔اس سلسلے میں فرمایا جب ہمیں کبھی نہر کی پڑی پر سفر کرنا ہوتا ہے تو جب تک ہم محکمہ نہر کی طرف سے اجازت نامہ حاصل نہیں کر لیتے تب تک ہم قطعاً اس پر سفر نہیں کرتے۔قانون کے احترام کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ بلدیہ ربوہ کے چیئر مین اور وائس چیئر مین نے حضور سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ملاقات ہوئی تو دونوں نے درخواست کی کہ ہماری رہنمائی کی جائے کہ ہم کس طرح اہل ربوہ کی بہترین خدمت “ 56 کر سکتے ہیں۔حضور نے دیگر باتوں کے علاوہ سلسلہ کے ایک معاند کے بارے میں فرمایا۔ربوہ کی بلدیہ کے جو حقوق آپ کے ذمہ ہیں آپ نے اس شخص (معاند ) کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔اگر یہ منصفانہ کر دار آپ نے اپنا یا تو کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔(روز نامه الفضل یکم اکتوبر 2001ء) سید نا حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث کی غیر مطبوعہ روح پرور یادوں کا سلسلہ اگر چہ لامتناہی ہے بلکہ ” دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار والا معاملہ ہے۔چند مزید غیر مطبوعہ واقعات ہدیہ قارئین ہیں۔احسان کا بدلہ احسان ہجرت کے بعد ربوہ میں نئ نئی آمد، غیر معمولی مسائل اور وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے با ہمت، اولوالعزم اور پیارے امام حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے 15, 16, 17 اپریل 1949 ء کو ربوہ میں جلسہ سالانہ کے انعقاد کا فیصلہ فرمایا۔با وجود نامساعد حالات کے یہ جلسہ اپریل میں منعقد ہو رہا تھا۔اور ماہ اپریل میں عموماً تو بڑے بڑے زمینداروں کے گھروں سے بھی گندم دستیاب ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔لیکن اس جلسہ کے لئے گندم کا انتظام کیسے، کس طرح اور کس خوش نصیب کے تاریخی تعاون سے ہوا۔اس کا ذکر درج ذیل واقعہ میں ہے۔جو حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے کئی مرتبہ خود سنایا۔آپ نے فرمایا:۔جب ربوہ نیا نیا آباد ہو رہا تھا تو میرے پاس ایک غیر از جماعت صاحب تشریف لائے۔اور اپنا تعارف یوں کروایا۔