یادوں کے نقوش — Page 31
“ 35 35 “ 46 36 کی عملی تصویر ہوا کرتا تھا۔1970ء کے انتخابات سے قبل حضورا یبٹ آباد میں قیام فرما تھے۔خاکسار نے لالیاں اور ربوہ کے صوبائی حلقہ کے متوقع امید واران، ان کی وابستگیاں، پس منظر اور ان کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ ارسال کی۔جس پر حضور نے ایک صاحب کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ الیکشن میں کھڑے ہو جائیں۔چنانچہ خاکساران صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو حضور کے ارشاد سے آگاہ کیا۔چنانچہ وہ صاحب بطور آزاد امیدوار صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں کھڑے ہو گئے۔حضور ان صاحب کی شرافت اور نیک شہرت کی وجہ سے ان کو پسند فرماتے تھے۔اور متعدد بار ان کے بارہ میں فرمایا کرتے تھے کہ وہ میرے دوست ہیں۔چنانچہ انتخاب سے قبل حضور کی دعوت پر وہ صاحب اور خاکسارا یبٹ آباد حاضر ہوئے۔حضور نے از راہ شفقت ان صاحب کو ذاتی مہمان کے طور پر الگ بخارا ہوٹل میں چند یوم ٹھہرایا۔حضور جب ربوہ واپس تشریف لائے تو ان صاحب کے مد مقابل امید وار اور ان کی برادری کے معزز اراکین اور ان کے سپورٹر جو تقریباً 8-10-افراد تھے حضور کی خدمت اقدس میں الیکشن کے سلسلے میں ووٹ مانگنے آئے۔جب تمام احباب تشریف رکھ چکے۔اور ابھی آنے والے احباب بات کرنے کا موڈ بنا ہی رہے تھے کہ حضور نے حسب معمول نہایت محبت بھرے لہجہ میں اور مسکراتے ہوئے فرمایا: پہلے میری بات سن لیں۔پھر میں آپ کی باتیں سنوں گا۔سب نے کہا بالکل بجا ہے۔پہلے آپ فرما ئیں۔حضور نے نہایت صاف اور واضح الفاظ میں لیکن نہایت ہی پیارے اور متبسم لب ولہجہ میں فرمایا۔اگر تو آپ صوبائی نشست کے لئے ووٹ مانگنے آئے ہیں تو میں (فلاں) صاحب سے وعدہ کر چکا ہوں۔ہاں اگر آپ قومی اسمبلی میں کھڑے ہونا چاہیں تو کل شام تک آپ سوچ کر مجھے بتائیں تو میں آپ کی امداد کے لئے تیار ہوں۔حضور کے اس دوٹوک اور واضح فیصلہ سے جو قول سدید کی عملی تصویر تھا۔آنے والے رفقاء کو زبردست دھچکا لگا اور مایوسی ان کے چہروں پر واضح طور پر نظر آنے لگی۔ان میں سے ایک صاحب جو حضور کے مقام اور مرتبہ کو صیح طور پر نہیں پہچانتے تھے اپنے سادہ اور مخصوص انداز میں حضور سے ان کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔لیکن ان کے ساتھ آئے ہوئے ایک اور صاحب نے جو حضور کے پسندیدہ بھی تھے اور حضور کو زیادہ اچھے طور پر جانتے تھے اور حضور کے اصولوں سے قدرے واقف بھی تھے، اس درخواست پر کہنے لگے ہماری تو یہ مجال نہیں کہ ہم اب یہ عرض کریں کہ حضور نظر ثانی فرما ئیں۔ملاقات سے اٹھنے سے پہلے وفد کے ایک سرکردہ صاحب نے جو دعا کی فلاسفی سے ناواقف تھے اور جنہوں نے محض دعا کا نام سن رکھا تھا، اپنی سادگی میں کہا کہ: اچھا ہمارے لئے دعا ہی فرما دیں۔اس پر حضور نے پھر قول سدید کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہماری امداد اور دعا میں اختلاف ہو۔حضور کی اس صاف گوئی کا ان سب احباب پر گہرا اثر پڑا۔چنانچہ بجائے کسی قسم کی ناراضگی کے اس کے بعد بھی یہ سر کردہ احباب حضور سے اپنے تعلقات مستحکم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی 1970ء میں ملک میں عام انتخابات ہونے والے تھے تحصیل چنیوٹ کے حلقہ سے قومی اسمبلی کے لئے ایک آزاد امیدوار کی درخواست پر حضور نے اس کی حمایت کا وعدہ کیا تھا۔اس کے بعد ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے حضور سے تعاون کی درخواست کی گئی۔حضور نے فرمایا کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے