یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 30 of 137

یادوں کے نقوش — Page 30

“ 33 33 یہ سلسلہ طویل ہو گیا۔ایک دن کسی نے بتایا کہ آج حضرت خلیفۃ المسیح الثالث احمد نگر اپنی اراضی پر تشریف لائے تھے۔وہاں کسی دوست نے شکایت کی کہ حضور آپ کی اراضی کے سلسلہ میں ناصر ظفر کی انگیخت پر شفعہ ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے۔وغیرہ وغيره۔مجھے جب اس خبر کا علم ہوا تو مجھ پر تو جیسے بجلی گر پڑی اتنا ہولناک الزام اتنا جھوٹ ! بیماری کی تکلیف اور غم تو جیسے بھول ہی گیا۔اس کر بناک الزام سے رات بھر ایک لمحہ کے لئے سونہ سکا۔ساری رات دعا اور بے چینی میں کئی۔کیونکہ جس امر کے بارے میں حضور کی خدمت میں شکایتا عرض کی گئی تھی اس معاملے کا مجھے علم تک بھی نہیں تھا۔پھر یہ احساس کہ حضور مجھ سے ناراض ہوں گے، مجھے بے موت مار رہا تھا۔بیماری کی تکلیف کی وجہ سے یہ بھی ہول اٹھ رہا تھا کہ اگر اس بیماری کے دنوں میں ہی حضور کی ناراضگی کے عالم میں اس جہان سے کوچ ہوا تو خدا کو کیا جواب دوں گا۔۔۔۔گرمی کا موسم تھا۔دن کے دو بجے تھے جب گھر والے آرام کر رہے تھے۔مجھے خدشہ تھا کہ میں نے کسی کو بتایا کہ میں ربوہ جا رہا ہوں تو گھر والے میری بیماری کے پیش نظر مجھے ہرگز نہ جانے دیں گے۔لہذا میں نے اس وقت کا انتظار کیا پھر خاموشی سے آہستہ آہستہ بس سٹاپ کی طرف روانہ ہوا جو میرے گھر سے تقریباً ایک فرلانگ پر واقع تھا۔راستہ میں ار دفعہ بیٹھ کر سانس لیا۔کیونکہ پیٹ پر آپریشن کا زخم تھا اور دل کی تکلیف اس کے علاوہ تھی لیکن حضور کی ناراضگی کے خوف نے سب بیماریوں کے احساسات کو ختم کر دیا تھا۔بس پر سوار ہوا اور تین بجے قصر خلافت پہنچا۔اطلاع بھجوائی۔میرے محسن اور شفیق آقا کو خاکسار کی آمد کا علم ہوا تو اپنے آرام کی پرواہ کئے بغیر تشریف لائے اور ایک معمولی اور ادنیٰ خادم کو شرف ملاقات سے نوازا۔حضور نے صحت کے بارہ میں استفسار فرمایا لیکن شدت جذبات اور نقاہت کے باعث منہ سے آواز نہ نکل سکی۔حضور 34 میری حالت کو سمجھ رہے تھے آپ نے شفقت اور پیار سے مزید تسلی و تشفی دی۔آخر بڑی مشکل سے ایک بات منہ سے نکلی حضور۔پانی ! قربان جاؤں اپنے شفیق آقا کے۔حضور خود اٹھے اندر سے ٹھنڈا مشروب لائے۔پینے کے بعد کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں ہوا۔جب قدرے بات کا آغاز ہوا تو پیارے اور مشفق آقا نے از راہ ہمدردی دریافت فرمایا آپریشن پر تمہارا کس قدر خرچ آیا ہے۔مجھے احساس ہوا کہ حضور کا یہ خیال ہے کہ شاید طویل بیماری کے باعث مقروض ہے، اس لئے پریشان ہے۔میں نے عرض کیا حضور میں بیماری کے اخراجات کے سلسلہ میں خود کفیل ہوں۔حضور صحت کے لئے دعا کی درخواست ہے آخر میں حرف مدعا زبان پر لایا کہ حضور میرے علم میں آیا ہے کہ حضور کی خدمت میں میری شفعہ وغیرہ کے سلسلے میں کسی نے شکایت کی ہے جس کے باعث یہ تکلیف اور غم میری بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دے رہا ہے۔جبکہ مجھے سرے سے ایسی کسی بات کا علم ہی نہیں۔لہذا حضور مجھے معاف فرما دیں۔خاکسار کے ان چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے بعد میری آواز بھرا گئی اور پھر بولنے کی بھی سکت نہ رہی۔میری بات سن کر حضور کی محبت کا دریا جوش میں آیا۔اس کے بعد حضور نے جتنی شفقت کا اور جس پیار کا سلوک فرمایا اس کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ بالکل نہیں۔قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث علاقہ کے غیر از جماعت دوستوں سے ہمیشہ شفقت سے پیش آتے اور اہم معاملات میں ان کی دلجوئی اور رہنمائی فرماتے لیکن حضور کا ہمیشہ یہ طریق رہا کہ آپ ہر معاملے میں نہایت پیار سے مگر بالکل کھرے انداز میں صاف بات ارشاد فرماتے۔آپ کا طرز عمل قرآنی حکم قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِيدًا