یادوں کے نقوش — Page 29
ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔فرمایا:۔31 اگر ہماری 18-19 سالہ ربوہ کی تاریخ میں ایک مثال بھی آپ بد عہدی کی پیش کر دیں تو آپ کا خدشہ بجا ہو گا۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضور نے ایک عجیب پیشگوئی فرمائی کہ آپ چیئر مین بننے کے بعد فلاں فلاں لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے جن کو آپ اس وقت ان کی طرف سے چیئر مین شپ کا عہدہ نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں۔حضور کی قبل از وقت کہی ہوئی یہ بات بعد میں لفظ بلفظ پوری ہوئی۔اس کی تفصیل کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔اب حضور کی وعدہ وفائی کا یاد گار اظہار ملاحظہ فرمائیں۔ان صاحب کے مخالفوں کو جب علم ہوا کہ احمدی ممبر کا ووٹ ہمارے مخالف کو مل رہا ہے تو وہ انتخاب سے چند گھنٹے قبل خاکسار کو آکر ملے اور کہا کہ ہم ایک شاندار تجویز لے کر آئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم چاروں ممبران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ احمدی ممبر کو چیئر مین بناتے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے فلاں صاحب کو احمدی ممبر کا ووٹ دینے کا وعدہ فرمالیا ہے اس لئے اب تو مشکل ہے! دنیا دار سیاست کے عادی ان افراد نے کہا کہ ہم کو حضور سے ملوا دیں۔ان کے دل میں تھا کہ اب جب کہ ہم احمدی ممبر کو چیئر مین بنانے پر تیار ہیں تو امام جماعت احمدیہ فوراً اپنے سابقہ وعدہ سے انحراف کر کے اپنے آدمی کو چیئر مین بنانے پر راضی ہو جائیں گے۔سیاست کے میدان میں ایسی قلابازیاں روز کا معمول ہیں۔اور گویا سیاست دانوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں۔ان صاحبوں کے نظریات کو بھانپ کر میں نے عرض کیا کہ میری تو مجال نہیں کہ حضرت صاحب کے وعدے کے بعد کسی قسم کی مداخلت یا عرض کرنے کی جسارت کروں اس لئے میں تو ساتھ نہیں جاسکتا۔بلکہ میرا آپ کو بھی یہی مشورہ ہے کہ آپ “ 32 بھی اس سلسلہ میں قطعاً نہ جائیں۔لیکن قدرت کو یہی منظور تھا کہ یہ لوگ ضرور حضور کی خدمت میں حاضر ہوں تا کہ دنیاوی سیاسی لوگوں اور امام جماعت احمدیہ کی شان اور مقام میں جو زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے وہ ان پر واضح ہو جائے۔اور یہ لوگ حضور کے ایفائے عہد کا خود مشاہدہ کرلیں۔چنانچہ چار افراد پر مشتمل یہ گروپ جس پر حضور پہلے ہی شفقت فرماتے تھے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور احمدی ممبر کے چیئر مین بنانے کی تجویز پیش کی اور تعاون کی التجا کی۔حضور نے فرمایا پانچواں ممبر کون ہے؟ وہ کہنے لگے وہ جو احمدی ممبر ہیں۔حضور نے فرمایا احمدی ممبر کے ووٹ کا تو وعدہ ہو چکا ہے۔وہ تو فلاں امید وار کا ووٹ ہے۔وہ تو اپنا ووٹ اپنے آپ کو بھی نہیں دے گا۔اس جواب پر یہ دوست لا جواب ہو کر واپس آگئے اور کہنے لگے: حضرت صاحب تے گل دے بڑے پکے نیں یعنی حضرت صاحب تو اپنے وعدہ کے بڑے پکے ہیں۔جماعت احمدیہ کے امام کے منصب کو سامنے رکھیں تو یہ واقعہ شاید ایک عام بات لگے۔لیکن دنیاوی سیاست کو سامنے رکھیں تو ہر سیاست دان اس واقعہ کوسن کر دانتوں تلے انگلی د بالے گا۔سیاسی دنیا میں ایسی مثالیں کہاں ملتی ہیں کہ اصولوں پر اقتدار کو قربان کر (روز نامہ الفضل 13 ستمبر 2001ء) دیا جائے !! سرا پا شفقت وجود 1969ء میں خاکسار نے اپنڈے سائٹس (Appendicitis) کا آپریشن کروایا۔آپریشن کامیاب رہا لیکن بعد میں طبیعت خراب ہوتی چلی گئی۔اور بیماری کا