یادوں کے نقوش — Page 28
“ 29 29 ملاقات میں کئی دوستوں کی موجودگی میں انہیں کہہ دیا کہ جناب اگر محض ٹکٹ کے بل بوتے پر آپ حضرت صاحبزادہ صاحب سے ووٹ لے جائیں تو واقعی آپ کی بات ٹھیک ہوگی کہ پرنسپل صاحب کا کوئی اصول نہیں ہے۔اور اگر ٹکٹ کے باوجود آپ کو جماعت احمدیہ کے ووٹ نہ ملیں تو پھر آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب انتہائی با اصول انسان ہیں۔چنانچہ اللہ کے برگزیدہ بندے کو اللہ تعالیٰ نے جو بات بتائی ہوئی تھی وہ پوری ہوئی اور یہ صاحب جن کو مسلم لیگ کا ٹکٹ ملا ہوا تھا مسلم لیگ کا ٹکٹ ہولڈر ہونے کے باوجود کامیاب نہ ہو سکے اور ان کے مد مقابل حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعاؤں اور تعاون کی برکت سے جیت گئے۔یہ واقعہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے تعلق باللہ اور خلق خدا سے ہمدردی کا روشن نشان ہے اور اصول پرستی کی واضح مثال ہے۔ایفائے عہد 1965ء میں وطن عزیز میں جب دوسری دفعہ بنیادی جمہوریت کے چیئر مینوں کے انتخابات کا اعلان ہوا تو ایک غیر از جماعت دوست چیئر مین شپ کے امیدوار تھے۔اس یو نین کونسل کے ایک ممبر احمدی تھے۔چیئر مین شپ کے امیدوار نے خاکسار سے رابطہ قائم کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ احمدی ممبر بڑے مہربان دوست تھے۔لہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ میرے تعاون کے ذریعے اس احمدی دوست کا ووٹ حاصل کیا جائے۔جب انہوں نے یہ بات کی تو میں نے عرض کیا کہ میں تو اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ کسی احمدی ممبر کا ووٹ دلواسکوں۔میں تو اپنا ووٹ بھی اپنے پیارے امام سے رہنمائی حاصل کئے بغیر استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔اس صورت حال میں کسی اور احمدی کو ووٹ کے لئے کس طرح عرض کر سکتا ہوں۔میرے اس “ 30 30 جواب پر صاحب موصوف نے کہا کہ اچھا مجھے حضرت صاحب سے ملادیں۔چنانچہ خاکسار نے ملاقات کی درخواست کی۔اور اجازت ملنے پر ہم دونوں شرف ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔بوقت ملاقات ان صاحب نے اس احمدی ممبر کے ووٹ کی درخواست کی جو حضور نے از راہ شفقت قبول فرمائی۔اس پر ان صاحب کو مزید حوصلہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ خاکسار مزید کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔حضور سے اجازت ملنے پر وہ کہنے لگے کہ آپ سے درخواست ہے کہ آپ نے اپنی سابقہ روایات کے مطابق جس طرح فلاں فلاں امیدواروں سے خلوص و ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے میرے ساتھ بھی ویسا ہی حسن سلوک فرما کر ممنون فرمائیں۔اس پر حضور نے خاکسار کو حکم دیا کہ ان کی خواہش کے مطابق ان کی امداد کا انتظام کر دیا جائے۔نیز فرمایا کہ جب تک انتخاب نہیں ہو جا تا انہیں اپنے ساتھ رکھیں اور ان سے تعاون اور رابطہ جاری رکھیں۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خاکسار نے ان سے ہر ممکن تعاون کیا۔راتوں رات ہم اس علاقہ کی ایک معروف صاحب اثر شخصیت کے گاؤں پہنچے۔یہ صاحب اثر شخصیت بھی حضور سے عقیدت رکھنے والے ایک صاحب تھے۔ان کا تعاون حاصل کیا گیا۔چنانچہ چیئر مین شپ کے امیدوار نے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی اور اس طرح سے حضور کی رہنمائی اور دعا سے کامیابی حاصل ہوگئی۔یہ صاحب جب حضور سے ملنے آئے تو انہوں نے ایک اور درخواست بھی کی۔انہوں نے کہا میری مخالف پارٹی بڑی بااثر ہے اور صاحب حیثیت ہے۔نیز وہ لوگ آپ سے بھی دیرینہ تعلق رکھنے والے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ جب وہ میری مخالفت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو ان سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمالیں۔اس بات کا حضور نے جو جواب دیا وہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور