یادوں کے نقوش — Page 27
تعلق باللہ کا ایک عظیم الشان نشان 27 277 ایوب خان کے دور میں وطن عزیز میں انتخابات ہوئے۔تحصیل چنیوٹ ( ماحول ربوہ) میں قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ایک ایسے شخص کو گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان کی وساطت سے ٹکٹ ملا جسے علاقہ کے غریب اور متوسط لوگوں کی اکثریت پسند نہیں کرتی تھی۔چنانچہ اس حلقہ کی انتہائی بااثر سیاسی شخصیت جو بلدیہ کے چیئر مین اور صوبائی وزیر بھی رہے تھے، انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو فون کیا اور کہا کہ ظلم ہو گیا ہے فلاں ظالم کو مسلم لیگ کا ٹکٹ مل گیا ہے۔براہ کرم آپ کوشش فرمائیں کہ ٹکٹ اس سے بہتر کسی مسلم لیگی کومل جائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا اللہ فضل فرمائے گا۔رات کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے دعا کی کہ اے اللہ ! ہم تو تیری جماعت ہیں۔ہمیں تو کوئی خطرہ نہیں۔ہمیں تو کسی سے دشمنی نہیں لیکن تیرے غریب بندوں پر اس شخص کو ٹکٹ ملنا۔غریب شہریوں پر زیادتی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو بتادیا کہ یہ شخص قطعاً کامیاب نہیں ہو گا۔چنانچہ صبح حضرت مولوی احمد خان صاحب نسیم مرحوم اور خاکسار کالج میں کوٹھی پر حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملنے کے لئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ اس ٹکٹ کو منسوخ کرانے کی کوششیں کریں۔اس کو بتا دیں کہ جس شخص کو مسلم لیگ نے ٹکٹ دیا ہے وہ نہیں جیتے گا۔نیز یہ بھی فرمایا کہ آپ کوشش کریں کہ اس ٹکٹ ہولڈر کے مقابلہ پر کوئی نہ کوئی آدمی ضرور کھڑا ہو جائے۔اور اگر کوئی بھی شخص حکومت کے ٹکٹ ہولڈر کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات نہ کرے تو آپ کسی احمدی کی درخواست دلوا کر اسے کھڑا کر دیں۔“ 28 کیونکہ بہر حال مسلم لیگ کا یہ ٹکٹ ہولڈر قطعا نہیں جیتے گا اس کا بے شک اعلان عام کر دیں۔ہم ابھی وہیں بیٹھے تھے کہ ٹکٹ منسوخ کرانے کے خواہش مند کا دوبارہ فون آیا کہ ٹکٹ کی منسوخی کی او پر بات ہوئی ہے یا نہیں۔اس پر حضور نے فرمایا ہاں بات ہوگئی ہے۔آپ فکر نہ کریں اور ٹکٹ سے مت گھبرائیں وہ ختم ہو چکی ہے۔ان صاحب نے وضاحت چاہی کہ کس سطح پر بات ہوئی ہے یعنی گورنر یا صدر یا کسی اور بڑی شخصیت میں سے کس سے بات ہوئی ہے؟ کیونکہ یہ لوگ تو دنیاوی سہاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔جب کہ حضرت صاحب افسران بالا سے ایسی باتیں حتی الامکان کیا ہی نہیں کرتے تھے۔آپ نے فرمایا فکر نہ کریں بات بہت ہی اونچی سطح پر ہو چکی ہے۔انشاء اللہ یہ ٹکٹ نہیں رہے گا۔اب دیکھئے خدا کی قدرت کہ بنا بنا یا کام کس طرح ٹوٹ جاتا ہے۔بغیر کسی رابطہ کے گورنر ملک امیر محمد خان جیسے سخت گیر اور مضبوط شخص کا پیغام حکومت کے ایک اہم منصب پر فائز قابل احترام شخصیت کے توسط سے موصول ہوا کہ گورنر صاحب کہتے ہیں مسلم لیگ کا ٹکٹ ہولڈر بے شک وہ شخص ہے۔مگر اب وہ ہمارا امیدوار نہیں رہا۔اب ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔یہ پیغام مکرم میاں ناصر احمد کو پہنچادیں۔ادھر اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ جب صاحب مذکور کو مسلم لیگ کا ٹکٹ ملا تو دوسرے دن وہ مجھے ملے اور بڑے فخریہ انداز میں کہنے لگے کہ جناب اب تو مجھے گورنمنٹ نے ٹکٹ دے دیا ہے۔اب دیکھتے ہیں آپ کے پرنسپل صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب) مجھے ووٹ کیسے نہیں دیتے ؟ اب ان کے اصول کا پتہ چلے گا؟ خاکسار کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی طبیعت اور اصول پرستی کا علم تھا کہ وہ نہ غیر منصفانہ اختلافات کے قائل تھے اور نہ ہی کسی کی خوشامد کے قائل تھے۔کسی قیمت پر آپ کی شخصیت اصولوں پر سودا بازی کرنے والی نہ تھی۔اس لئے میں نے اس