یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 26 of 137

یادوں کے نقوش — Page 26

“ 25 25 ہے۔اسے انتہائی مضبوط اور مربوط ہونا چاہئے۔اسی وجہ سے ماحول سر بوہ میں احمد نگر آپ کی توجہ سے فیضیاب ہوتارہا اس ضمن میں ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔جن دنوں خاکسار احمد نگر کی مجلس خدام الاحمدیہ کا قائد اور عزیزم مکرم محمد افضل بٹ صاحب ناظم اطفال تھے ہم نے اطفال اور ناصرات کے الگ الگ علمی اور ورزشی مقابلہ جات کروائے۔ہم سب کی دلی خواہش تھی کہ تقسیم انعامات کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے درخواست کی جائے۔چنانچہ خاکسار حاضر ہوا اور درخواست کی تو فرمایا کہ مصروفیت تو بہت ہے میں آنے کی کوشش کروں گا۔اس وعدہ کے بعد ہم نے اس تقریب تقسیم انعامات کا خصوصی اہتمام کیا جس میں نمایاں بات کثیر تعداد میں غیر از جماعت معززین کی حاضری تھی۔وقت مقررہ پر خاکسار حضرت صاحبزادہ صاحب کو لینے کے لئے حاضر ہوا تو فرمایا میں تو آج بے حد مصروف ہوں۔خاکسار نے ادب واحترام کے جملہ تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے بچوں کی طرح اصرار کیا حضرت میاں صاحب خاموش رہے۔جب ہم نے عرض کیا کہ خاصی تعداد میں غیر از جماعت دوست بھی چشم براہ ہیں تو پاس بیٹھے ہوئے حضرت مولوی احمد خان صاحب نسیم کو فرمایا اب تو مصروفیت کے باوجود ہمیں جانا چاہئے۔چند لمحات میں مولوی صاحب کی مشہور و معروف جیپ پر حضرت میاں صاحب کی قیادت میں ہم احمد نگر روانہ ہوئے۔راستہ میں میں نے عرض کیا، میاں صاحب آپ کے گلے میں صرف غیر احمدی معززین ہار ڈالیں گے۔اس طرح سے آپ کو اس تعارف کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کون کون سے غیر از جماعت شرفاء تقریب میں موجود ہیں۔حضرت میاں صاحب کی جیپ جب احمد نگر پہنچی تو نواب علی صاحب پٹواری اما حول ربوہ سے مرادر بوہ کا گردونواح ہے۔“ 26 46 والی سڑک جو سر گودھا روڈ سے ملتی ہے وہاں سے دونوں طرف پختہ سڑک سے لے کر احمد نگر کی آبادی دیہہ تک دو طرفہ خور دو کلاں نے پُر جوش خیر مقدمی نعروں سے حضرت میاں صاحب کا استقبال کیا جس سے فضا پُر مسرت ارتعاش سے گونج اٹھی۔میاں صاحب کی جیپ رکی تو سڑک کے دائیں طرف غیر از جماعت معززین ہار لئے کھڑے تھے جن کی قیادت سید کرم حسین شاہ صاحب مرحوم سکنہ قاضی والا حال احمد نگر کر رہے تھے۔علاقہ چک جھمرہ و چنیوٹ میں اپنی جرات و بے باکی کے باعث ان کا شمار معروف ترین سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔شاہ صاحب نے حضرت میاں صاحب کے گلے میں پہلا ہار ڈالا اور پھر دیگر غیر از جماعت معززین ہار ڈالتے چلے گئے یہاں تک کہ جب حضرت میاں صاحب احمد نگر کی بیت الذکر تک پہنچے تو حضرت میاں صاحب کا مقدس چہرہ گلاب کے سرخ پھولوں میں چھپ چکا تھا اور صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔اس دوران مکانوں کی چھتوں سے بچیاں اور مستورات بلا امتیاز عقیدہ حضرت میاں صاحب پر گل پاشی کرتی رہیں۔بیت الذکر میں پہنچ کر حضرت میاں صاحب نے بچوں اور بچیوں کی تقاریر اور نظمیں سنیں۔اس موقع کے لئے خاکسار کے والد محترم حضرت مولوی ظفر محمد صاحب ظفر نے خصوصی طور پر یہ ترانہ لکھا۔هم احمدى بنات هي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ترانہ چند معصوم بچیوں نے انتہائی خوش الحانی سے سنایا۔تقسیم انعامات کے بعد حضرت میاں صاحب نے انتہائی شاندار اور مختصر خطاب فرمایا جس سے غیر از جماعت دوست بے حد متاثر ہوئے۔آخر میں آپ نے اطفال الاحمدیہ احمد نگر کے لئے مبلغ 50 روپے سالانہ اعزازی انعام کے طور پر دینے کا اعلان فرمایا۔تقریب کے بعد حضور کی خدمت میں عصرانہ پیش کیا گیا جس میں بیسیوں غیراز جماعت معززین کے علاوہ احمد نگر کے احباب جماعت نے بھی شمولیت کا اعزاز پایا۔