یادوں کے نقوش — Page 19
11 “ 12 ماحول کے بارہ میں عموماً اور احمدنگر کے بارہ میں خصوصاً گفتگو فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ میں چونکہ کافی مصروف رہتا ہوں۔آپ اس علاقہ کے لوگوں سے متواتر رابطہ رکھیں۔نیز اس علاقہ کے لوگوں کے مسائل سے مجھے آگاہ کرتے رہیں۔اس دن سے لے کر مئی 1982 ء تک خاکسار کو مسلسل حضور کی زیر ہدایات خدمت سرانجام دینے کی توفیق اور اعزاز ملتا رہا۔اس کے علاوہ بے شمار مواقع ایسے بھی نصیب ہوئے کہ حضور کے ساتھ علاقہ کے غیر از جماعت معزز دوستوں کے ہمراہ ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا۔آپ منصب خلافت پر فائز ہونے سے قبل اس علاقہ کے بااثر مقامی راہنماؤں کی خواہش پر ان کی رہنمائی فرماتے رہے۔آپ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد بھی ان معززین کو آپ کی شفقت اور رہنمائی حاصل ہوتی رہی۔علاقہ کے ان سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کی ملاقات کے دوران حضور با وجود اپنی انتہائی دینی و جماعتی مصروفیات کے، ان لوگوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی اور دلداری کا سلوک فرماتے رہے۔علاقہ بھر کے مخالف اور موافق سرکردہ راہنما سیاسی لحاظ سے با ہم مخالف ہونے کے باوجود آپ پر اعتما در کھتے اور آپ کی رائے اور آپ کے مشورے کا بے حد احترام کرتے تھے۔آپ کا ان کے ساتھ نہایت بے لوث اور غیر جانبدارانہ تعلق تھا۔1953ء کی گرفتاری اور خادموں سے شفقت 1953ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔سلسلے میں حضور فرمایا کرتے تھے کہ میرا لاہور میں قیام تھا۔گھنٹی بجی میں باہر آیا دیکھا تو پولیس اور انتظامیہ وغیرہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔میں نے بلا توقف کہا۔دو منٹ میں آیا۔میں نے کپڑے بدلے اور ان کے ساتھ چل دیا۔جیل میں پیشل کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔میں نے کہا میں قیدی ہوں اس لئے میں خوشی سے وہی کھانا کھاؤں گا جو دیگر قیدی بھائی کھاتے ہیں۔البتہ اگر ممکن ہو تو پودینے کے چند پتے ساتھ دے دیا کریں۔حضور انتہائی غریب پرور تھے۔جس سے ایک دفعہ تعلق قائم ہو گیا اس کو عمر بھر نبھایا۔جیل میں حضرت میاں صاحب کا جو مشقتی تھا وہ آپ کی بہت خدمت کرتا تھا۔حضور نے رہائی کے بعد نہ صرف اس سے رابطہ رکھا بلکہ ہمیشہ اس کی دلداری کے اسباب فرماتے رہے۔اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد پر بھی دست شفقت رکھا۔حضور کی اپنے ملازمین پر شفقت کا اظہار اس طرح بھی ہوا کہ حضور کی احمد نگر کی زرعی زمین پر جو غیر احمدی ملازم تھے تنخواہ کے علاوہ ان کی خوشی غمی میں مکمل سر پرستی فرمائی حتی کہ ایک دیرینہ خادم کو مستقل رہائش کی سہولت فراہم کی اس کی بیٹی کی شادی پر غیر معمولی تعاون فرمایا۔ایک دفعہ حضور نے ایک اہم کام کی تکمیل کا ارشاد فرمایا۔اس سلسلہ میں جو وفد تھا اس نے واپسی پر حضور کی خدمت میں رپورٹ عرض کی اور اجازت لے کر نیچے آئے تو مکرم بہادر شیر صاحب مرحوم دوڑے آئے اور کہا کہ حضور کا ارشاد ہے افطاری کا وقت ہے۔سب دوست روزہ کھول کر جائیں۔حضور نے افطار کا پُر تکلف سامان اپنے کچن سے بھجوایا الہ اللہ! یہ محبت اور یہ شفقت اپنے خادموں کے ساتھ !! مکرم مهر سکندر حیات صاحب لالی کے تاثرات میری دلی خواہش تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب جنہوں نے ایک لمبا عرصہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں بطور پرنسپل خدمات جلیلہ سرانجام دی ہیں۔جس کی بدولت اس کالج نے باوجود انتہائی نامساعد حالات کے ملک بھر میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے بارہ میں ان کے شاگردوں کے تاثرات قلمبند کئے جائیں۔چنانچہ ایک دن مہر سکندر حیات صاحب جو چیئر مین