یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 14 of 137

یادوں کے نقوش — Page 14

“ 1 “ 2 تلاوت قرآن کریم قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ پاک کلام ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔یہ سب سے افضل اور آخری کتاب ہے اس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ خود ذمہ دار ہے۔ارشاد خداوندی ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر :10) بعض دفعہ ہم ایک معمولی سی کتاب کو صرف اس لئے توجہ سے پڑھتے ہیں۔تاکہ ہمارے علم میں کچھ اضافہ ہو جائے۔اگر ہم قرآن کریم کو جو تمام دینی اور دنیاوی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ ہے۔پورے غور و خوض اور تدبر سے پڑھیں تو اس کے نتیجہ میں ہم اپنی زندگی کو دین اور دنیا میں کامیاب اور کامران بنا سکتے ہیں۔اس کو سوچ کر پڑھنا بہت بڑی برکت کا باعث ہے۔تلاوت قرآن کریم کی اہمیت خود قرآن کریم میں مذکور ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل : 79) صبح کے وقت خاص طور پر قرآن شریف کی تلاوت کیا کرو کیونکہ صبح کا وقت حضور قلب کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت قرآن کریم پڑھنے میں خوب دل لگتا ہے۔انسان رات بھر آرام کے بعد صبح تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو اس وقت کی خوشگوار اور پُرسکون فضا میں دل و دماغ تروتازہ ہوتا ہے۔اس میں سوچنے اور سمجھنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے اور وہ ہر بات پر صحیح طریق سے غور کر سکتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی اور مطالب پر غور کرنا بھی ضروری ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بے نظیر اور مقدس کلام کی تلاوت کیلئے صبح کا وقت زیادہ موزوں اور مناسب قرار دیا ہے۔پھر فرمایا ہے۔کتب اَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ مُبَرَكَ لِيَدَّبَّرُوا ايته وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الْأَلْبَابِ ( ص: 30) یعنی اے نبی ! جو کتاب ہم نے تیری طرف اُتاری ہے بڑی برکت والی ہے۔لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور جو عقل رکھتے ہیں اس سے نصیحت حاصل کریں۔تلاوت قرآن کریم کی ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس کے ذریعہ دلوں کو تقویت اور سکینت حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) یعنی دل کا اطمینان صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوسکتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔اس کی تلاوت سے غمگین اور رنجیدہ دلوں کو سکون اور طمانیت مل سکتی ہے۔انسان مایوس نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کر کے اس کی رحمت و برکت کی امید رکھتے ہوئے دنیاوی کاروبار میں مصروف رہتا ہے۔دنیا کی کوئی ناکامی اور نامرادی اس کا حوصلہ پست نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس کی نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے۔تلاوت قرآن کریم کی ایک اور فضیلت قرآن کریم کے الفاظ میں یہ ہے کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (بنی اسرائیل : 83) یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسی باتیں اُتاری ہیں۔جو ایمان والوں کی روحانی بیماریوں کا علاج اور ان کے لئے رحمت کا موجب ہیں۔گویا قرآن شفا بھی ہے اور رحمت بھی۔روحانی بیماریوں سے مراد وہ بیماریاں نہیں ہیں۔جن کا اثر جسم پر ہوتا ہے۔مثلاً بخار، در دو غیرہ۔بلکہ انسانی روح کی بیماریاں ہیں۔جیسے کوئی بات اپنی خواہش اور مرضی کے خلاف پا کر اس کا الزام خدا پر رکھنا۔خدا کی وحدانیت اور اس کی صفات میں کسی قسم کا شک کرنا اور خدا کو اپنا آقا اور مالک مانتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل نہ کرنا۔قرآن کریم کی تلاوت سے ان مرضوں سے بھی مریض کو شفا ملتی ہے۔