یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 134 of 137

یادوں کے نقوش — Page 134

235 “ سے تر کر دیا۔236 عزیزم فرقان اللہ صاحب خلیل برادرم مکرم امان اللہ خان بلوچ سکنہ واپڈا کالونی کوٹ ادو کا جواں سال بیٹا عزیزم فرقان الله خلیل بعمر 18 سال جو بفضل اللہ تعالیٰ نیک سیرت اور خوش شکل تھا۔مورخہ 14اکتوبر 1996ء بروز جمعہ صبح ناشتہ کے بعد کرکٹ کھیلنے کے بعد گھر آیا اور والدہ کو کہا کہ میں نے جمعہ پڑھنے جانا ہے۔ٹیوب ویل پر نہا کرا بھی واپس آتا ہوں۔ٹیوب ویل بند تھا۔چنانچہ کوٹ ادو کینال پر نہانے چلا گیا۔چھلانگ لگاتے ہی پانی میں گم ہو گیا۔عزیزم فرقان کوٹ ادو کالج میں فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا۔اپنے اعلیٰ کردارو نیک اطوار اور قابل تعریف نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور اپنے عمدہ اخلاق کی وجہ سے اپنے ہم مکتبوں میں ہر دلعزیز تھا۔جب گھر میں عزیزم فرقان کے ڈوبنے کی خبر پہنچی تو نیک اور باہمت ماں اور صابر و شاکرہ بہنوں نے روایتی انداز میں چیخ و پکار رونے دھونے سینہ کوبی وغیرہ کی بجائے یہ صبر آزما اور کٹھن مراحل ادا ئیگی نوافل اور تلاوت کلام پاک میں گزارے۔عزیزہ شاکرہ نے بتایا کہ میری امی اور بہنوں نے پہلے تو یہ دعا شروع کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے فرقان کو زندہ ملا دے۔جب بارہ گھنٹے گزر گئے اور اس کی زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو ہم نے اپنی دعاؤں اور التجاؤں کا رخ اس کی زندگی بچانے کی بجائے سجدہ ریز ہو کر یہ دعائیں شروع کر دیں کہ اے اللہ ہمارے فرقان کی نعش مل جائے۔ہم عہد کرتے ہیں کہ تقدیر الہی کو صبر وشکر سے قبول کریں گے اور ایک لفظ بھی ناشکری کا ہمارے منہ سے نہیں نکلے گا۔مسلسل دعاؤں سے انہوں نے اپنی سجدہ گاہ کو آنسوؤں اللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا اور مورخہ 16اکتوبر 1996 ء بوقت ساڑھے دس بجے صبح جس جگہ عزیز فرقان نے چھلانگ لگائی تھی۔اسی جگہ سے معجزانہ طور پر فرقان اللہ کی نعش مل گئی۔فرقان اللہ خلص اور فدائی خادم پابند عبادات تھا۔دعوت الی اللہ کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔مرکزی اور مقامی سطح کی تربیتی کلاسوں اور ورزشی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا اور انعام پاتا رہا۔اپنے جیب خرچ سے با قاعدگی دینا اس کا شعار تھا۔صحت کے لحاظ سے اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ صحت مند و توانا تھا۔کبڈی اور کشتی کا بہترین کھلاڑی تھا۔سرائیکی علاقہ میں کشتی کے کھیل کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔جس کیلئے بڑے بڑے دنگل لگتے ہیں۔اس نے اپنی نوعمری کے باوجود 17 کشتیاں لڑیں سولہ جیتیں ایک میں برابر۔خدام الاحمدیہ کے تحت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے خدام کا کبڈی کا مقابلہ ہوا۔اس مقابلہ میں حصہ لینے والوں میں سے صرف دو کھلاڑی مرکزی مقابلہ کے لئے منتخب کرنے تھے۔چنانچہ ان دو میں سے ایک عزیزم فرقان منتخب ہوا۔تعلیم کا یہ حال تھا کہ بغیر ٹیوشن کے میٹرک کا امتحان نمایاں پوزیشن میں پاس کیا اور فرسٹ ائیر میں بھی اپنے ہم مکتبوں میں بفضل تعالیٰ ممتاز تھا۔آخر میں عزیز کے بلندی درجات کی درخواست دعا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ لے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے اور سب کا حافظ و ناصر ہو اور ہمیں آئندہ ایسے صدمات سے محفوظ رکھے۔آمین (روز نامہ الفضل 21 اپریل 1997ء)