یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 128 of 137

یادوں کے نقوش — Page 128

“ 223 کرتے ہوئے کہا کہ بس بس اس سے آگے کوئی بات نہ کرنا میں تو چاہتا ہوں کہ میری ساری اولا د سلسلہ کے لئے وقف ہو جائے۔طاہر صاحب کی آمدنی قلیل تھی لیکن اس کے باوجود انہیں سب سے زیادہ فکر اپنے چندہ جات کی ادائیگی کا ہوتا تھا۔وفات سے چند یوم قبل اپنے بیٹے عزیزم عقیل احمد بعمر تقریباً17 سال کو کہنے لگے کہ میں نے چندہ دینا ہے لیکن پیسے نہیں ہیں اس لئے ایسا کرتے ہیں کہ ربوہ پہاڑی پر جا کر ہم دونوں مزدوری کرتے ہیں تا کہ چندہ کی ادائیگی کی جاسکے۔مخلص بیٹے نے والد صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی تائید کی لیکن دوسرے دن پدری شفقت جوش میں آئی اور کہنے لگے کہ جب تک میں زندہ ہوں خود کما کر تمام چندے دوں گا تم اپنے فرائض سرانجام دیتے رہو۔10 /اگست 1973ء کو احمد نگر میں دریائے چناب کے سیلاب کا قیامت خیز ریلا آیا تاحد نظر پانی ہی پانی تھا۔احمد نگر کی تاریخ میں اس سے قبل ہم نے اتنا بڑا سیلاب کبھی نہیں دیکھا تھا۔احمدنگر کی گردو نواح کی آبادی احمد نگر کے مرکزی بالائی حصہ جہاں زیادہ تر احمدی گھرانے آباد ہیں اکٹھی ہوگئی۔ہم نے اپنے مکان جو قدرے محفوظ تھے بلا امتیاز اپنے مقامی بہن بھائیوں کے لئے پیش کر دیئے تھے اور بفضل تعالیٰ احباب جماعت اور خصوصاً خدام نے خدمت خلق کے لئے مسلسل اپنے آپ کو وقف کئے رکھا۔گھروں میں جو تھوڑا بہت خوراک کا سامان تھا وہ تمام متاثرین سیلاب میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔اب سینکڑوں افراد کے خوردنوش کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ان حالات میں مقامی جماعت کو یہ مکمل احساس تھا کہ تمام متاثرین کی خوراک کا فی الفور انتظام کیا جائے جس کا مقامی طور پر انتظام ناممکن تھا۔اب صرف ایک ہی ذریعہ تھا کہ لنگر خانہ ربوہ سے تمام متاثرین کے لئے کھانا منگوایا جائے لیکن قیامت خیز طغیانی میں کون زندگی کی بازی لگا کر ربوہ پہنچے اور ان حالات کی اطلاع دے تاکہ ربوہ والے “ امداد بھیج سکیں۔224 ان حالات میں پورے گاؤں میں سے مکرم جمیل احمد صاحب نے اپنے آپ کو پیش کیا آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سلیمان صاحب کو تیار کیا جو دونوں بفضل تعالیٰ ماہر تیراک اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے جمیل صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ سیلاب کی طوفانی لہروں سے نبرد آزما ہو گئے۔انتہائی ناموافق حالات میں پانی کی مخالف سمت میں تیر کر آپ تقریبا نصف گھنٹہ میں پختہ سڑک پر پہنچے ہی تھے کہ ربوہ کے خدام کشتیوں پر پہلے ہی سینکڑوں افراد کا کھانا لے کر پہنچ گئے۔جمیل صاحب ان کے ساتھ بخیریت گاؤں پہنچ گئے لیکن جمیل صاحب کی قربانی و ایثار کا یہ واقعہ پورے گاؤں کی دعائیں حاصل کرنے کا باعث بن گیا۔اس کے بعد کشتی کے ذریعے جمیل صاحب مسلسل 24 گھنٹے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ متاثرین سیلاب کو کھانا پہنچانے ، ان کا قیمتی سامان نکالنے میں مصروف رہے چپو چلا چلا کر ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ چکے تھے۔ایک رات وہ 11 بجے گھر پہنچے ہی تھے کہ میں نے جا کر دستک دی باہر آئے۔عرض کیا کہ دو آدمی ٹھٹھہ غلام کے پاس پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور چلا چلا کر آواز میں دے رہے ہیں کہ خدا کے واسطے ہمیں بچاؤ۔اب ان کی امداد کے لئے پہنچنا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقام پر ریلوے لائن ٹوٹ چکی تھی۔اور تمام پانی کا زبر دست بہاؤ اسی جگہ پر تھا وہاں پہنچنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔میری بات ابھی جاری تھی کہ جمیل صاحب نے فوراً چپوسنبھالا اور خدام کو ساتھ لے کر ان مصیبت زدگان کو بچانے کے لئے روانہ ہو گئے۔تقریباً دو گھنٹے کی مسلسل جدو جہد کے بعد وہ دوفوجیوں کو جو حقیقی بھائی تھے اور موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھے معجزانہ طور پر بچا کر لے آئے۔مکرم جمیل صاحب کے اخلاص کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ ان کی نماز جنازہ میں جس