یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 124 of 137

یادوں کے نقوش — Page 124

“ 215 کر رکھا تھا، جب رات کو سر محترم کے لئے چار پائی پر بیٹھنا بھی ناممکن ہوتا گیا تب اپنے سسر محترم جو آپ کے ماموں بھی تھے ان کے پاؤں کی طرف فرش پر پیٹڑی رکھ کر بیٹھ جاتیں جب بزرگ قدرے غنودگی میں ہوتے تو تب اپنا سر سسر محترم کے پاؤں کی طرف چار پائی کے پائے پر رکھ کر قدرے اونگھ لیتیں۔محترم حاجی صاحب نیم بیہوشی کے باعث اپنے (فوت شدہ) بیٹے نور محمد خان کو جو نہی آواز دیتے تو آپ فوری جی جی ماموں جان کہتے ہی آپ کے کان کے قریب دریافت کرنے پر انہیں پانی پلاتیں۔تھوڑے سے وقفہ کے بعد جونہی ماموں جان کی آواز دوبارہ محسوس ہوتی تو فوری ان کی خدمت میں پیش ہو کر تحمیل حکم کرتیں۔اللہ اللہ ! کس عظمت والی باوفا بیوی اور جاں نثار بہن اور وفادار بہو تھیں۔تربیت اولاد آپ نے جہاں زندگی میں اپنے رفیق حیات اور بزرگ ضعیف و نحیف سسرال کی غیر معمولی خدمت کی سعادت پائی ساتھ ہی باہمت ماں کی مامتا نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت میں بھی کمی نہ آنے دی۔سب سے پہلے آپ نے اپنے چاروں بیٹوں اور دو بیٹیوں کو خود قرآن پاک پڑھانے کی سعادت پائی۔بچوں کی تربیت نگرانی کے ساتھ حضور کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھنے کی تلقین فرمائیں۔حضور کے خطبات باقاعدگی سے بچوں کو سنوا تیں۔جب مکرم محمود ایاز صاحب ان کے بیٹے اعلیٰ تعلیم کے بعد بطور ٹیچر تعینات ہوئے تو آپ نے اپنے لخت جگر کو یہ نصیحت فرمائی۔بیٹا استاد اگر فرشتہ نہیں تو فرشتہ سیرت ضرور ہونا چاہئے۔تم اپنے فرائض منصبی اسی اصول کو پیش نظر رکھ کر ادا کرنا تو تمہیں کبھی مشکل پیش نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ رزق میں بھی برکت ڈالتا رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔پھر فرمایا کہ میں نے “ 216 ہمیشہ اپنے بچوں کو باوضو ہو کر دودھ پلایا۔اللہ اللہ کس شان اور اعلیٰ مقام کی والدہ تھیں۔ایسی مائیں تو قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہیں۔آپ فارغ اوقات میں بچوں کو جماعت کے تاریخی اور ایمان افروز واقعات سنایا کرتیں اور جماعت سے وابستگی کا درس دیئے رکھتی تھیں۔فرماتی تھیں کہ ھے پیوسته ره انفاق فی سبیل اللہ شجر امید بہار رکھ ہمشیرہ محتر مہغلام سکینہ بی بی صاحبہ زندگی میں حسب توفیق مالی قربانی کی سعادت پاتی رہیں۔بستی مندرانی کی خواتین میں سے یہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے سب سے پہلے وصیت کی سعادت پائی۔اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے بعد مذکورہ سعادت ہماری خوش نصیب بہن کو دور فقاء بانی سلسلہ کی دعاؤں اور تربیت کا ثمر ہے۔اس کے علاوہ دیگر چندوں،صدقات و خیرات کی توفیق بھی پاتی رہیں۔آپ جوں جوں انفاق فی سبیل اللہ کی توفیق پاتی رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کی اولاد کو وافر رزق حلال سے نوازتا چلا آ رہا ہے۔راہ خدا میں خرچ کرنے کے باعث بفضل اللہ تعالیٰ ہمشیرہ محترمہ کا گھرانہ اپنے ماحول میں غیر معمولی بہتر ہے۔خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل سے آپ کے بچوں کو دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا جارہا ہے۔جبکہ تعلیم کا گراف بھی بڑھتا گیا۔آپ کی وفات مورخہ 14 نومبر 2009ء کو صبح کی نماز اور حسب معمول تلاوت قرآن کے بعد بارہ بجے دن تک آپ کی صحت بفضل اللہ تعالیٰ معمول کے مطابق رہی۔اچانک