یادوں کے نقوش — Page 115
شادیوں پر تحائف 197 آپ ہر کام میں تربیتی و دینی پہلو کو مقدم رکھتی تھیں آپ کا خاندان وسیع تھا۔اور آپ خاندان میں نہ صرف معمر ہونے کے ناطے بلکہ اپنی شفقتوں اور دعا گو ہونے کے باعث ہر دلعزیز و مقبول تھیں جب بھی خاندان میں کوئی شادی بیاہ کی تقریب ہوتی آپ سے ضرور شمولیت کی درخواست کی جاتی۔آپ ہمیشہ اپنے عزیزوں کی دلجوئی فرماتیں اور بوقت شمولیت حسب توفیق کچھ نہ کچھ نقد رقم تحفہ کے طور پر دیتیں۔تربیت اولاد نامساعد حالات اور نقل مکانی کے باعث بچوں کو اعلی تعلیم تو نہ دلوا سکیں البتہ اپنے تمام بچوں پر سلسلہ احمدیہ سے محبت و اخلاص اور خلافت احمدیہ سے محبت و وابستگی کے گہرے نقوش چھوڑے۔آپ بڑی خوبیوں کی مالک تھیں خاندان اور خاندان سے باہر جہاں تک آپ کی دسترس تھی آپ ہر کمزور مفلس نادار کے لئے خاموش سہارا تھیں۔خاندان کے جس فرد کے متعلق معلوم ہوتا کہ وہ مالی تنگدستی میں مبتلا ہے۔اس کی معقول مالی امداد فرماتیں جس کا دوسرے کو علم تک نہ ہونے دیتیں۔نہ صرف اپنے خاندان بلکہ رشتہ داروں کے آگے رشتہ داروں کی مالی امداد خصوصاً مفلس ومخلص اور ہونہار طالب علموں کو با قاعدگی سے تعلیمی وظائف دیتی تھیں۔ان کی وفات کے بعد آپ کی اس خاموش مالی خدمت کا پہلو نمایاں طور پر سامنے آیا الغرض ھے خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والی میں آپ کی میت لاہور سے دارالضیافت لائی گئی اور بعد نماز عصر بیت مبارک “ 198 میں مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح وارشاد نے نماز جنازہ پڑھایا۔بہشتی مقبرہ میں تدفین کے بعد مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل الاعلیٰ نے دعا کروائی۔پیاری خالہ جان نے اپنی زندگی میں جو کار خیر جاری کر رکھے تھے اور جن جن مالی تحریکوں میں حصہ لے رکھا تھا۔آپ کے پسماندگان نے تمام تحریکوں کو جاری و ساری رکھنے کے سلسلہ میں اقبال بیگم ویلفیئر فنڈ قائم کر دیا ہے۔جس میں پسماندگان نے حسب توفیق عطا یا دیئے ہیں۔اس فنڈ سے انہوں نے اپنی والدہ کی جملہ تحریکوں کو زندہ و پائندہ رکھنے کا عہد کیا ہے کیونکہ ان کی روح کو ثواب اور ان کے ترقی درجات کے لئے یہ ایک اعلیٰ نیک طریق ہے۔احباب جماعت سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالی پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرما دے اور آپ کی اولا د اور نسل کو ہمیشہ حضرت بانی سلسلہ کی دعاؤں کا وارث بنائے۔آمین (روز نامہ الفضل 19 اکتوبر 1992ء)