یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 116 of 137

یادوں کے نقوش — Page 116

199 “ 200 شریک حیات محتر مہ رشیدہ بیگم صاحبه 7 نومبر 1995ء کی بات ہے کہ دفتر سے چھٹی ہونے پر جب گھر آیا تو میری بیوی ( رشیدہ بیگم ) نے یہ خوشخبری سنائی کہ عزیزم طارق سات دسمبر کو جرمنی سے پاکستان آ رہا ہے۔اگر چہ یہ اطلاع ہمارے لئے انتہائی مسرت اور خوشی کا باعث تھی کہ بیٹا تقریبا پانچ سال بعد پہلی مرتبہ آرہا ہے۔لیکن رشیدہ بیگم کے چہرہ پر وہ خوشی اور رونق ی تھی جو ہونی چاہئے تھی۔یہ خبر سنانے کے بعد وہ قدرے خاموش ہو گئیں۔معابعد مجھے اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے ہوئے نظر آئے۔حیرانگی ہوئی کہ ایسا کیوں؟ خیال آیا شاید اظہار تشکر اور خوشی کے آنسو ہوں گے۔میرے استفسار پر قدرے بھرائی آواز میں بولیں کہ مجھے پیارے طارق کی آمد کی بفضل تعالیٰ بے انتہا خوشی ہے۔لیکن میرے دل و دماغ میں وہ وقت آ رہا ہے کہ جب بیٹا واپس جائے گا اس وقت اس کی اور پھر میری کیا کیفیت و پوزیشن ہوگی۔اس کی واپسی اور پھر جدائی پر اس کو اور مجھے جو تکلیف ہوگی وہ اس خوشی پر مجھے بھاری اور بوجھل محسوس ہو رہی ہے۔عزیزم طارق کی آمد آمد تھی گھر میں رنگ وروغن کا اہتمام کیا جارہا تھا۔جو کافی عرصہ سے نہ ہوئے تھے۔جوں جوں دن قریب آتے گئے۔جانبین کی خوشی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔دن بھر گھر کی صفائی سامان ادھر سے ادھر اٹھانا رکھنا اس کا معمول بنا رہا۔اور شام کو بیٹے کی خاطر مدارت کے لئے ضرورت کی نئی نئی اور اچھی اچھی اشیاء خرید نے بازار چلی جاتیں۔ساتھ ساتھ اکثر یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلتے رہے کہ نہ جانے دل کیوں بجھا بجھا سا رہتا ہے۔جبکہ دل کے نام کی اس کو نہ کوئی بیماری تھی اور نہ ہی کوئی بنیادی عارضہ تھا۔بفضل تعالیٰ ظاہری جسمانی اعصابی لحاظ سے انتہائی صحت مند و تو انا تھیں۔مورخہ 26 نومبر 1995ء کو دن بھر مہمان آتے رہے۔ان کی ضیافت کا سلسله زور شور سے جاری رہا۔اپنی نواسی کو فون کیا کہ دو پہر کا کھانا میرے پاس آکر کھاؤ۔تمام کھانے بڑے شوق سے خود پکائے۔تقریباً چار بجے تمام مہمان چلے گئے۔تو لاہور میں مقیم اپنی بیٹی کے لئے ساگ پکانا شروع کر دیا۔ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج بھی کرتی رہیں۔مجھے ایک کام کہا کہ ادھر باہر سے گھنٹی ہوئی۔میں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کون ہے آکر کام کرتا ہوں۔خاکسار باہر آیا تو گیٹ پر دو دوست کھڑے تھے۔ان سے صرف دو تین منٹ بات کر کے واپس چلا آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری بیوی فرش پر چت خاموش آرام سے سیدھی لیٹی ہوئی ہے۔یہ صورت حال میرے چشم تصور کے قطعی برعکس تھی۔میں نے سمجھا کہ پاؤں پھسل گیا ہے۔میری انتظار میں ہے کہ میں آؤں اور اٹھاؤں۔چنانچہ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں۔اٹھ کھڑی ہوں۔لیکن جواب ندارد۔دو تین آواز میں دی لیکن وہ خاموش رہیں۔اس پر قدرے پریشانی ہوئی۔قریب بیٹھ کر مزید دو تین آواز میں دیں لیکن بے اثر۔میں گھر میں اکیلا تھا۔فوری ہسپتال فون کیا چند منٹوں میں ایمبولینس آگئی۔ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر صاحبان نے فوری چیک اپ کیا۔چند لمحوں کے بعد وہ مایوس نگاہوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔اس وقت تک مجھے ایک فیصد بھی احساس نہ تھا کہ میری رفیقہ حیات اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملی ہے۔ڈاکٹر صاحبان نے بتایا کہ ان کا تو موقعہ پر ہی دل فیل ہو گیا تھا۔عجب تصرف الہی دیکھئے۔کہ 26 نومبر کو مکرم نسیم سیفی صاحب ایڈیٹر الفضل (جو احمدی شعرا کا کلام اکثر الفضل میں شائع فرماتے رہتے ہیں۔عین اس وقت جب ہم غمزدہ تھے۔آپ نے حسن اتفاق سے 27 نومبر کے الفضل میں والد محترم ظفر محمد صاحب ظفر کی نظم بعنوان مقام تو کل اور دعا شائع فرمائی جس کے صرف چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔