یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 117 of 137

یادوں کے نقوش — Page 117

201 “ 202 میرے دردِ دل کی نہ کوئی دوا کرے ہاں دعا کرے لا درد دوا ہے مرا مبتلا طول آمل میں ہو راضی رہوں اسی جو میرا خدا کرے تدبیر بھی ہے قبضة تقدیر میں ظفر مقام عطا مولی تجھے تو گل کرے یہ اخبار 26 نومبر کی شام کو ہمارے لئے پیغام تو کل وصبر لایا۔یہ نظم پڑھتے ہی عجیب ڈھارس اور حوصلہ عطا ہوا۔ایسے معلوم ہوا کہ والد محترم کی روح ہمارے غم میں فوراً آشامل ہوئی ہے۔تمام اہل خانہ بار بارا سے پڑھتے رہے اور نا قابل بیان حوصلہ پاتے۔حضرت خلیفہ اسیح الرائع نے از راہ شفقت بوساطت منظوری صدر انجمن احمدیه مورخہ 3 مئی 1996ء کو جنازہ غائب بعد از جمعہ بیت الفضل لندن میں پڑھایا۔خاکسار نے اہلیہ کی وفات پر حضرت صاحب کی خدمت میں جو خط لکھا تھا اس کا درج ذیل حصہ حضرت صاحب کے ارشاد پر الفضل انٹرنیشنل نے یکم مارچ 1996ء کی اشاعت میں شائع کیا۔مکرم ناصر احمد صاحب ظفر کارکن امور عامد ربوہ اپنی اہلیہ رشیدہ بیگم صاحبہ کے متعلق لکھتے ہیں۔خاکسار کی اہلیہ پابند صوم وصلوٰۃ، چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ سادہ مزاج خود دار مفتی ، مہمان نواز تھیں۔زندگی بھر انہوں نے نہ زیورات کی تمنا کی اور نہ ہی قیمتی ملبوسات کی خواہش۔اس کی دینداری کا یہ حال تھا کہ اس کا بیٹا عزیزم مبشر احمد ظفر جرمنی سے آیا۔تو اس نے والدہ سے عرض کیا کہ امی میں آپ کو تحفہ لے کر دینا چاہتا ہوں۔آپ کیا پسند کریں گی۔نیک دل والدہ نے کہا کہ ایک تو مجھے تفسیر صغیر خرید دیں۔دوسرا میری وصیت کا بقایا ادا کر دیں۔چنانچہ سعید فطرت بیٹے نے فوری تعمیل کر دی۔جب سے حضور کے خطبات ایم ٹی اے پر شروع ہوئے ہیں۔خاکسار عینی شاہد ہے کہ اس نے حضور کا کوئی خطبہ ماسوائے سفر کے Miss نہیں کیا۔ایک دن اس کے بیٹے نے جرمنی سے فون پر استفسار کیا کہ امی کوئی چیز چاہئے تو بھجوا دوں۔اس پر اس کی والدہ نے کہا کہ بیٹا ایک سال سے لوگوں کے گھروں میں جا کر حضور کے خطبات سن رہی ہوں، گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔چلا نہیں جاتا۔کبھی کسی کے گھر اور کبھی کسی کے گھر جانے سے طبیعت پر بوجھ بھی پڑتا ہے۔اگر تمہاری جیب اجازت دیتی ہے تو ایسا انتظام کر دو کہ گھر بیٹھی اطمینان سے حضور کے خطبات سن سکوں۔سعید فطرت بیٹے نے فوری مطلوبہ رقم بھجوادی۔جس سے گھر میں ہی حضور کے خطبات تادم واپسیں با قاعدگی سے سنتی رہیں۔حضرت صاحب کی طرف سے اس قدر حوصلہ افزائی اور اظہار پسندیدگی پر احساس ہوا کہ کیوں نہ قدرے تفصیل سے اس کا ذکر خیر بغرض دعا الفضل میں شائع کر لیا جائے۔خاکسار کی شادی 25 دسمبر 1953ء کو مکرم محمد یوسف صاحب بٹ کی صاحبزادی رشیدہ بیگم سے احمد نگر میں ہوئی۔خاکسار کا تعلق بلوچ قبیلہ سے ہے جبکہ زوجه ام بٹ زادی تھیں۔دونوں قوموں کے مزاج نظریات میں بعد المشرقین تھا۔موصوفہ نے نہایت عقل مندی سلیقہ شعاری اور حسن تدبیر سے اس خلیج کو بغیر کسی اختلاف کے پاٹ لیا۔دونوں خاندانوں کی اچھی روایات کو اپنے اندر ایسا سمویا کہ ہر دو خاندانوں میں انتہائی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہیں۔سب سے نمایاں اور غالب رنگ دین داری کا تھا۔شروع سے لے کر تادم واپسیں باقاعدگی سے عبادات کو التزام کے ساتھ سنوار سنوار کے پورے سوز کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔