یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 54 of 117

یادوں کے دریچے — Page 54

54 یادوں کے در بیچے ایک واقعہ بیان فرمایا۔وہ یہ کہ ایک حضرت اسماعیل شہید ایک مرتبہ دریائے جہلم کے کنارے کشتی کے انتظار میں کھڑے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک سکھ اور ایک مسلمان کے درمیان تیرا کی کا مقابلہ ہو رہا ہے اور ہر بارسکھ جیت جاتا ہے۔آپ نے یہ دیکھ کر اپنا سفر ملتوی کر کے تیرا کی کی مشق کی اور سکھ سے مقابلہ کر کے جیت کر سفر پر روانہ ہوئے۔آپ نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم کا جب انعقاد فر مایا تو نونہالان جماعت کی تربیت کے لئے جو ذمہ واریاں اس تنظیم کے سپرد فرما ئیں ان میں سے ایک وقار عمل کی تحریک بھی تھی۔قادیان میں بہت باقاعدگی کے ساتھ وقار عمل منعقد کیا جاتا جس میں حضرت اباجان خود بھی شمولیت فرماتے اور خلیفہ کی تتبع میں جماعت کے دیگر بزرگ اور بڑی عمر کے افراد بھی۔مجھے ایک نظارہ نہیں بھولتا۔قادیان کے مغرب کی طرف کا ایک حصہ بہت گندا تھا اور گاؤں کی غلاظت اس طرف پھینکی جاتی تھی۔یہ حصہ نشیب بھی تھا اس لئے بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا۔جس سے تعفن پیدا ہوتا تھا اس جگہ جب وقار عمل کیا گیا تو حضرت ابا جان نے بھی باقی افراد کے ساتھ اس کی صفائی اور جگہ ہموار کرنے کے لئے ہاتھ میں کدال پکڑے ،مٹی کھود کر ، ٹوکرے میں بھر کر اس طرف ڈالنے کے لئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ ایک صاحب نے آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ سے یہ کہہ کر ٹو کرا لینے کی کوشش کی کہ حضور ہم خدام موجود ہیں، آپ یہ تکلیف کیوں فرماتے ہیں۔آپ نے ان کو ٹوکر انہیں پکڑایا اور کہا جیسے باقی سب ہیں ویسا ہی میں ہوں اور لگا تار سارا وقت اسی طرح اپنے ہاتھ سے کام کرتے رہے۔یہ تھا آپ کا کردار۔اس حقیقت کا کون انکار کر سکتا ہے کہ اگر اپنا نمونہ نہ ہو تو محض وعظ ونصیحت بے اثر بھی ہے اور بے کا ر بھی۔کارکنان کی دلجوئی کارکنان اور ملازمین پر شفقت اور ان کی دلداری کا بے حد خیال رکھتے۔متعدد واقعات احباب جماعت پر گزرے ہوں گے یہاں صرف تین واقعات بطور مثال درج کر رہا ہوں : سندھ میں جب لائیڈ بیراج سندھ کی تعمیر مکمل ہوئی تو حکومت نے اراضیات کی فروخت کا فیصلہ کیا جو اس وقت تک بنجر علاقے تھے۔پانی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت مفقود تھی۔اباجان نے اپنے ایک خواب کی بناء پر اراضیات خریدنے کا فیصلہ کیا۔تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے لئے بھی اراضی