یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 24 of 117

یادوں کے دریچے — Page 24

24 یادوں کے در بیچے بچوں کی تربیت میں ایفائے عہد کی طرف بھی توجہ رہتی تھی۔چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ہو نظر انداز نہ فرماتے۔ابا جان جلسہ سالانہ کے بعد چند روز کے لئے تفریح اور دریائی پرندوں کے شکار کے لئے دریائے بیاس کے قریب ایک گاؤں ” پھیر و پیچی‘ تشریف لے جایا کرتے تھے۔مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔دریا پر شکار کے لئے جاتے تب بھی مجھے ساتھ رکھتے۔میری عمر کے لحاظ سے میرے لئے 16 بورڈبل بیرل بندوق خریدی تھی۔یہ 12 بور کی نسبت ہلکی وزن کی تھی۔ایک دن آپ کی طبیعت ناساز تھی۔آپ نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو کہا کہ آپ شکار کے لئے چلے جائیں اور مبارک کو بھی ساتھ لے جائیں۔ہم کشتی پر دریا میں شکار کے لئے نکلے ہی تھے کہ دو قاز اڑتے ہوئے ہماری طرف آئے۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ ان دونوں کو گرا لیں تو میں آپ کو ایک رو پید انعام دوں گا۔ڈاکٹر صاحب نے دونوں قا ز مار گرائے۔ہم شام کو واپس کیمپ میں آگئے۔میں تو بھول گیا کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے انعام کا وعدہ کیا تھا ڈاکٹر صاحب بھولنے والے نہ تھے۔دو روز کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہیں ابا جان سے اس وعدہ کا ذکر کر کے کہا کہ ”میاں“ نے وعدہ پورا نہیں کیا۔ابا جان اندر تشریف لائے تو مجھے بلا کر کہا کہ تم نے ڈاکٹر صاحب سے وعدہ کیا تھا اور پورانہیں کیا یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔آئندہ ایسا کبھی نہ کرنا۔اگر وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو۔یہ کہہ کر اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ ابھی جا کر ڈاکٹر صاحب کو دے کر آؤ۔بچوں کی تربیت کا ایک انوکھا طریق نسبتا چھوٹی عمر میں بچے کہانیاں سنے کا شوق رکھتے ہیں۔آپ نے بچوں کی تربیت کے لئے یہ طریق بھی اپنایا۔ایک مرتبہ آپ نے ان بچوں کو جو شعور کی عمر کو پہنچ چکے تھے ایک کہانی سنانا شروع کی جو عشاء کی نماز کے بعد ہمیں سناتے۔تقریباً ایک گھنٹہ روزانہ جو کئی ہفتے جاری رہی۔یہ کہانی کسی قصے کہانیوں کی کتابوں سے اخذ نہیں کی گئی تھی بلکہ آپ نے از خود مختلف تربیتی امور سے تعلق رکھنے والی اسلامی تعلیم پر روشنی ڈالنے کے لئے کہانی کا رنگ دے کر اس کو اس قدر دلچسپ بنا دیا کہ ہم سارے جو اس مجلس میں جمع ہوتے تھے۔اگلے دن شام کا انتظار کرتے۔بچوں کی تربیت کا یہ انوکھا اور فلسفیانہ طریق تھا۔اس کے علاوہ آپ نے گھر میں درسِ قرآن شروع کیا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔اس درس