یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 93 of 117

یادوں کے دریچے — Page 93

یادوں کے دریچ 93 کمرہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابا جان نے مولوی محمد علی صاحب کو پہلے اندر جانے کے لئے کہا۔پھر بیٹھنے والے کمرہ میں گفتگو شروع ہوئی۔کچھ کھانے سے پہلے اور کچھ کھانے کے بعد لیکن کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر یہ ملاقات ختم ہو گئی۔ایک بڑی دلچسپ بات اس ضمن میں یاد آ گئی کہ غیر مبائعین کے سرکردہ اصحاب میں سے ایک جو حضرت مسیح موعود کے رفقاء میں سے تھے اور بہت امیر آدمی تھے حضرت ابا جان کو دعا کے لئے باقاعدہ لکھتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ ابا جان نے ان کے خط کے جواب میں لکھا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے مرید ہیں اور دعا کے لئے مجھے لکھتے ہیں۔ان کا جواب آیا کہ اعتقاد تو ہمارے امیر صاحب کا ہی درست ہے لیکن دعا ئیں آپ کی قبول ہوتی ہیں۔اس لئے آپ کو دعا کے لئے لکھتا ہوں۔حضرت بانی سلسلہ کے رفقاء کے متعلق ایک اور واقعہ کا ذکر بھی دلچسپی کا باعث ہوگا۔دودوستوں کا واقعہ ہے جو بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ایک تو ملک غلام محمد صاحب مل اونر جو قصور میں رہتے تھے اور دوسرے شیخ عبدالرزاق صاحب بیرسٹر جن کے آباء لاہور میں رہتے تھے اور خود یہ لائل پور (فیصل آباد) میں پریکٹس کرتے تھے۔یہ دونوں دوست جماعت غیر مبائعین میں شامل تھے لیکن کبھی قادیان بھی حضرت ابا جان سے ملنے کے لئے آجاتے تھے۔اور ان کا آپس میں یہ معاہدہ تھا کہ جب بھی قادیان جانے کا پروگرام ہو تو دونوں اکٹھے جائیں گے۔ہم میں سے کوئی اکیلا نہیں جائے گا۔مسیحی انفاس جب بھی قادیان تشریف لاتے حضرت ابا جان ان کو ذاتی مہمان کے طور پر اپنے پاس ٹھہراتے ان کے لئے کھانا بھی اپنے گھر سے تیار کرواتے۔ابا جان کے ان ہر دوا حباب سے کوئی ذاتی مراسم نہ تھے۔یہ احترام اور سلوک محض اس لئے تھا کہ یہ دونوں حضرت بانی سلسلہ کے رفقاء میں سے تھے۔وقت گزرتا گیا ایک روز ابا جان کو پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے اطلاع ملی کہ شیخ عبدالرزاق صاحب تشریف لائے ہیں۔فوری ان سے ملے اور پوچھا کہ ملک صاحب کہاں ہیں؟ جواب ملا کہ میں اکیلا آیا ہوں۔دوپہر کا وقت تھا جب یہ قادیان پہنچے تھے۔حسب سابق ابا جان نے ان کے کھانے کا فوری انتظام کروایا۔ظہر کا وقت ہوا تو ابا جان نماز کے لئے تشریف لے گئے۔نماز کے بعد