یادوں کے دریچے — Page 92
92 66 صرف یہی نہیں بلکہ حضرت ابا جان سے ذاتی بغض کا اظہار تحریر و تقریر میں موسم بے موسم ان کی طرف سے جاری رہتا۔لیکن اس کے باوجود میرے باپ کے دل میں ان کے لئے کوئی غصہ یا انتقام کا جذبہ نہ تھا۔آگے جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ اس کے ثبوت میں ہے۔گرمیوں میں حضرت ابا جان اکثر ڈلہوزی پہاڑ پر تشریف لے جاتے۔کرایہ پر کوٹھی لی جاتی۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور بھی ہر سال گرمیاں ڈلہوزی گزارتے تھے۔ان کی اپنی کو ٹھی تھی۔ڈلہوزی شہر کے اس حصہ کی طرف جس کو ” بکر وٹہ“ کہتے تھے۔حصہ نسبتا اونچی پہاڑی پر تھا۔اس حصہ شہر میں جماعت کے ایک متمول خاندان کے فرد اور حضرت مسیح موعود کے رفیق کی بھی کوٹھی تھی۔ان کا نام شیخ میاں محمد تھا ( مجھے یہی یاد ہے ) انہوں نے تجویز کی کہ جماعت کے دونوں حصوں کے سر براہ اگر اکٹھے مل کر کوئی ایسا سمجھوتہ کر لیں کہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہ کی جائے۔نہ اپنے اخبارات میں ایک دوسرے کے خلاف کچھ لکھا جائے بلکہ ہر دو جماعتیں اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق تبلیغ کریں اور امام وقت کا پیغام لوگوں تک پہنچا ئیں۔اس تجویز کو آگے بڑھانے کے لئے انہوں نے حضرت مصلح موعود اور جناب مولوی محمد علی صاحب کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا تا بالمشافہ گفتگو سے یہ معاملہ طے ہو سکے۔حضرت صاحب ، درد صاحب بطور پرائیویٹ سیکرٹری اور میں اس کھانے پر مدعو تھے ( مجھے باوجود ذہن پر زور ڈالنے کے سمجھ میں نہیں آیا کہ میں بیچ میں کہاں سے آگیا۔جو کچھ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بکر وٹہ روڈ پر سیر کرتے ہوئے شیخ صاحب اتفاقا سرک پر مجھے ملے تھے اور مجھے کھڑا کر کے پوچھا تھا کہ تم کون ہو، کیا نام ہے، کس کے بیٹے ہو ) بہر حال جب ہم ان کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ میں بارش شروع ہوگئی۔حضرت ابا جان کی برساتی اور کچھ چھتریاں ساتھ تھیں جو دو پہریدا ر ا ٹھائے ہوئے تھے۔حضرت ابا جان نے اپنی برساتی پہن لی اور باقیوں نے چھتریاں کھول لیں۔جب شیخ صاحب کی کوٹھی پر پہنچے تو عین اسی وقت مولوی محمد علی صاحب بھی اندر داخل ہو رہے تھے۔شیخ صاحب نے آگے بڑھ کر اپنے امیر کی برساتی اتاری اور ٹانگ دی اور حضرت ابا جان کی برساتی ایک پہریدار نے۔مجھے یہ کچھ اچھا نہیں لگا کہ جماعت کے ایک حصہ کے امام جوصرف امام ہی نہیں حضرت مسیح موعود کے فرزند بھی ہیں میزبان نے ان کا احترام مد نظر نہیں رکھا۔بہر حال یہ نظارہ ابھی تک آنکھوں کے سامنے ہے جب میں نے حضرت ابا جان کی طرف نظر ڈالی تو دیکھا کہ آپ نے مسکرا کر آگے بڑھ کر خود مولوی محمد علی صاحب کو السلام علیکم کہا۔بیٹھنے والے