یادوں کے دریچے — Page 91
یادوں کے دریچ 91 سے قبل اگر صرف چند گھنٹے کے لئے بھی انہوں نے مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگا دی تو یہ ان کی بے عزتی کے مترادف ہوگا۔جس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ امیر صاحب کراچی نے اسی وقت کراچی کی جماعت کے تین احباب کو بذریعہ کار ربوہ روانہ کیا اور ہدایت کی کہ رستہ میں ایک منٹ رکے بغیر سیدھے ربوہ پہنچیں۔یہ احباب حضرت صاحب کے نام ایک خط بھی لائے تھے۔( مجھے یاد نہیں کہ یہ گورنر جنرل صاحب کا خط تھا یا امیر جماعت کراچی کا۔کیونکہ یہ سر بمہر لفافہ تھا ) رات بارہ بجے کے قریب یہ لوگ ربوہ آئے۔امیر صاحب کراچی کی ہدایت کے مطابق سید ھے ہمارے گھر آئے اور آنے کی وجہ بیان کر کے مجھے کہا کہ آپ ابھی یہ خط حضور کو پہنچا دیں۔میں خط لے کر گیا ، آپ نے کھولا اور پڑھا۔پہلے تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ آدھی رات کو پہنچے ہیں کیا ان کے کھانے کا تم نے انتظام کر دیا ہے۔میں نے بتایا کہ طیبہ بیگم نے اسی وقت کھانا میز پرلگانا شروع کر دیا تھا۔میرے واپس جانے تک وہ کھانے سے فارغ ہو چکے ہوں گے۔فرمانے لگے فارغ ہو گئے ہوں تو انہیں لے آؤ۔میرے ساتھ یہ احباب قصر خلافت پہنچے۔ان سے مل کر فرمایا کہ واپس جا کر چوہدری صاحب کو کہہ دیں ” میری طرف سے گورنر جنرل صاحب پاکستان کا شکریہ ادا کر دیں۔لیکن ربوہ چھوڑ کر میں کہیں نہیں جاؤں گا۔جو خدا کراچی میں ہے وہ یہاں بھی ہے۔حضرت ابا جان پر جب ایک غیر احمدی نوجوان نے جو اپنے آپ کو احمدی ظاہر کر کے نماز میں پہلی صف میں جا کر بیٹھ گیا تھا اور نماز کے بعد آپ کی گردن پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔چاقو کی نوک شہ رگ کے قریب تک جا پہنچی تھی اور گو اس قاتلانہ حملہ کے چند سال بعد تک آپ زندہ رہے۔لیکن چونکہ چاقو کی نوک شہ رگ کے قریب پہنچ کر اندر ہی ٹوٹ گئی تھی اس لئے آپریشن نہیں ہو سکتا تھا۔بہر حال وفات کی وجہ یہی حملہ تھا۔لاہوری جماعت کے لئے بردباری اور نرمی حضرت ابا جان کو حضرت مسیح موعود کے جملہ رفقاء سے انس بھی تھا اور ان کی عزت اور احترام بھی۔باوجود اس کے کہ 1914ء کے انتخاب خلافت کے وقت جماعت میں تفرقہ پیدا ہو گیا اور حضرت مسیح موعود کے بیشتر ساتھی قادیان چھوڑ کر لاہور چلے گئے اور اپنی علیحدہ جماعت قائم کر لی۔