یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 83 of 117

یادوں کے دریچے — Page 83

یادوں کے دریچ 83 کے سپرد کر دی۔ہماری ایک خالہ سے ان کی شادی کروائی۔گرمیوں میں پہاڑ پر جاتے تو اکثر ان کو ساتھ لے جاتے۔ہم سب بچے ان کو چھوٹے چا کہہ کر پکارتے تھے۔آپ کا فضل اور احسان صرف اپنے خاندان اور اپنی جماعت تک ہی محدود نہ تھا۔سلسلہ کے شدید معاندین کی بھی ان کی تکلیف میں مدد کی۔اور یہ وہی کر سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خاص مقام عطا کیا ہو۔ایسے بہت سے واقعات کا مجھے علم ہے۔لیکن جب ان کا اظہار آپ مناسب نہ سمجھتے تھے تو مجھے کچھ لکھنے کا حق نہیں۔متفرق یادیں اب کچھ متفرق یاد میں لکھ رہا ہوں۔متعدد غیر از جماعت معزز خاندانوں سے آپ کے ذاتی تعلقات تھے اور ان پر آپ کی بارعب شخصیت ، حسنِ سلوک اور اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے باوجود برابری اور اپنائیت کا گہرا اثر تھا۔جس کا اظہار ان میں سے چند ایک نے مجھ سے کیا۔دو باتیں لکھنا چاہتا ہوں۔منہ بولے رشتوں کو نبھانا میر احمد علی صاحب تالپور جو سندھ کے ایک بڑے زمیندار اور سیاسی لیڈر بھی تھے نے ایک مرتبہ مجھ سے شکوہ کیا کہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد آپ لوگوں نے ہم سے تعلق نہ رکھا۔پھر حضرت صاحب سے اپنے ذاتی تعلق کا واقعہ بیان کیا۔کہنے لگے کہ حضرت صاحب جب بھی اپنے فارموں پر تشریف لے جاتے تو اکثر میری دعوت پر ہمارے گھر حیدر آباد ( سندھ ) دو پہر کے کھانے کے لئے قیام فرماتے تھے۔میری بچی جو ابھی چھوٹی عمر کی تھی ، آپ سے بہت پیار کرتی تھی اور آپ بھی میری بچی کو ہمیشہ یہی کہتے کہ یہ تو میری بیٹی ہے۔کہنے لگے جب وہ جوان ہوئی اور اس کی شادی کی تاریخ میں نے مقرر کی تو میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں اپنا خط لکھ کر اپنے ایک ملازم کے ہاتھ بھجوایا اور آپ کو لکھا کہ آپ اس بچی کو ہمیشہ اپنی بیٹی کہتے رہے ہیں۔اب اس کی شادی ہے آپ خود تشریف لا کر اس کو رخصت کریں۔کہنے لگے کہ ملازم واپس آیا تو اس نے حضرت صاحب کا خط اور ایک بند ڈبہ مجھے دیا کہ انہوں نے یہ بھجوایا ہے۔میں نے خط کھولا تو اس میں آپ نے مجھے لکھا کہ ان دنوں