یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 82 of 117

یادوں کے دریچے — Page 82

جوانی ہی سے ذمہ داریاں نبھانا 82 حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد آپ کے اس انیس سالہ نو جوان بیٹے نے سارے خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھالی۔حضرت اماں جان کی ہرضرورت اور ہر خواہش کا پورا کرنا اپنا فرض جانا۔کبھی کسی قسم کی کمی نہ ہونے دی۔نیز اپنے بھائی بہنوں کا بھی ہر طرح خیال رکھا۔ہر آڑے وقت میں ان کے کام آئے اور کبھی اس کا اظہار نہیں فرمایا۔اپنے بھائی بہنوں کی اولا داور اپنی اولاد میں کوئی فرق نہیں کیا۔ایک بظاہر چھوٹی بات جو بڑی باتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے لکھے دیتا ہوں۔عید کے روز آپ خاندان کے سب بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔اپنے اور اپنے بھائی بہنوں کے ہر بچے کو دو روپے اور باقی سب بچوں کو ایک ایک روپیہ۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے بچوں اور اپنے بھائی بہنوں کے بچوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی فرق نہیں کیا۔گرمیوں میں پہاڑ پر جاتے تو اپنے بچوں کے ساتھ دوسرے عزیزوں کے بچوں کو بھی حسب گنجائش ساتھ لے جاتے۔اس قسم کے سلوک کا ایک واقعہ جو گو بالواسطہ تعلق رکھتا ہے لیکن تاریخی حیثیت بھی ہے اور آپ کے اعلیٰ اخلاق اور دیگر رشتہ داروں سے قرابت داری کا اعلیٰ نمونہ بھی۔پڑھنے والوں کی دلچسپی کا موجب ہوگا۔حضرت مسیح موعود کے ایک چچازاد بھائی مرزا نظام الدین صاحب شدید معاندین میں سے تھے۔مخالفت کا کوئی حربہ نہ تھا جو انہوں نے استعمال نہ کیا اور آخر عمر تک مخالفت میں کوئی کمی نہ کی۔آخر عمر میں جب زیادہ بیمار ہوئے اور ان کو احساس ہو گیا کہ اب آخری وقت آگیا ہے۔انہوں نے حضرت ابا جان کو پیغام بھجوایا کہ آکر مجھے ملیں۔حضرت ابا جان اسی وقت ان کی حویلی میں تشریف لے گئے جو حضرت مسیح موعود کی حویلی سے چند قدم کے فاصلہ پر ہی تھی۔مردانہ کمرے میں پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔پلنگ کے ساتھ کرسی بچھوا دی تھی۔ابا جان اندر داخل ہوئے تو پہلے ان کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔پھر اپنے بیٹے مرزا گل محمد کا ہاتھ پکڑا اور ابا جان کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ پکڑا دیا۔منہ سے کچھ نہ کہہ سکے۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ابا جان فوری سمجھ گئے کہ وہ مرزا گل محمد کو میرے سپر د کر رہے ہیں۔کچھ گھنٹے یا دن کے بعد ان کی وفات ہوگئی۔ابا جان نے اپنے چازاد بھائی کو اپنے بچوں کی طرح ہی پالا تھا۔ان کی سب جائیداد کا خود انتظام سنبھالا اور کچھ عرصہ بعد ان کی جائیدادان