یادوں کے دریچے — Page 79
یادوں کے دریچ 79 مجذوب سمجھتے تھے ( احمدی نہیں تھے ) بہت نیک اور بے ضرر اور ہمدرد انسان تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اس لئے ہمارے خاندان کے بعض لوگ بھی ان سے علاج کرواتے۔ان کی نظر میں کوئی انسان بڑا نہ تھا اس لئے کسی کے گھر میں کبھی تشخیص کرنے نہ جاتے۔جس نے علاج کروانا ہوتا ان کے مطب میں آتا۔ایک دن میں اپنے لڑکے کے لئے دوا لینے گیا۔وہ ہمیشہ اپنے مطب میں جو ایک بڑا ہال تھا میز کے ایک طرف کرسی پر بیٹھے ہوتے (اور مریض ہال کی دیوار کے ساتھ متعدد بچوں پر ) لیکن جب میں جاتا تو ان کا ایک ملازم مجھے دیکھتے ہی کرسی لا کر حکیم صاحب کے پہلو میں رکھ دیتا اور حکیم صاحب اس پر مجھے بٹھاتے۔اس دن عام معمول کے خلاف ان کی میز کے دوسری طرف تین اصحاب کرسیوں پر بیٹھے تھے دینداری کا غازہ لگائے ہوئے۔میں ان کو نہیں جانتا تھا نہ کبھی دیکھا تھا۔میرے بیٹھتے ہی حکیم صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ ان کو جانتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں میں ان سے کبھی نہیں ملا۔اس پر ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ (۱) چوہدری افضل حق ( ب ) حبیب الرحمن ( ج ) مظہر علی اظہر ہیں جو احرار کے سرکردہ لیڈر ہیں اور میرے ساتھ دوستانہ مراسم ہیں۔اخبار الفضل میں حضرت صاحب امام جماعت احمدیہ کا خطبہ میں نے پڑھا۔اس خطبہ میں انہوں نے احرار کے متعلق بڑی تحدی کے ساتھ یہ الفاظ کہے کہ ” میں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھتا ہوں۔میں نے جب پڑھا تو ان تینوں کو کہا کہ میں تمہیں کئی دفعہ سمجھا چکا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی دشمنی سے باز آ جاؤ مگر یہ سنتے ہی نہیں۔اب امام جماعت احمد یہ کے یہ الفاظ پڑھ کر میں نے ان کو کہا کہ اب بھی تو بہ کر لو ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔کیونکہ ان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں ضرور پورے ہوتے ہیں۔وہ تینوں بالکل خاموش بیٹھے رہے اور چند منٹ بعد اٹھ کر چلے گئے۔میں نے حکیم صاحب سے پوچھا کہ آپ کو یہ الفضل کیسے ملا تو کہنے لگے میں الفضل با قاعدہ پڑھتا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ کے اس اعلان کے بعد احرار کا وجود ختم ہونا شروع ہوا اور آج صرف نام ہی باقی ہے۔ملک کی اکثریت شاید اس نام سے بھی اب واقف نہ ہو۔یہ ایک غیر از جماعت نیک انسان کا یقین تھا۔جماعت احمدیہ میں شامل لوگوں کو آپ کی ساری زندگی کی کاوشوں اور جماعت کی ترقی کے لئے کی گئی کوششوں کو کبھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ اس سے بڑی نا احسان شناسی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔