یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 78 of 117

یادوں کے دریچے — Page 78

78 کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس ( میز پر رکھے ہوئے لیمپ کی طرف اشارہ کر کے ) کی روشنی کو اس بجلی کے لیمپ (جو او پر آویزاں تھا کی طرف انگلی اٹھا کر ) کی روشنی سے ہے۔حضرات ! جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔“ ایک سال کے بعد آپ کا یہ لیکچر کتابی شکل میں شائع کیا گیا اس کی تمہید بھی جناب سید عبد القادر صاحب نے تحریر فرمائی۔آپ لکھتے ہیں : ’ فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے۔مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ مشھد بُد ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مؤرخ ہیں جو حضرت عثمان کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کی اصل وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوانِ خلافت مدت تک تنزل میں رہا۔میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہو گا۔“ پاکستان بننے کے بعد آپ نے ملک کے استحکام کے لئے متعدد کوششیں کیں۔وہ لوگ جو آج پاکستان کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں پاکستان بننے سے قبل اپنی تقریروں میں تو یہاں تک کہہ جاتے تھے کہ ہم پاکستان تو ایک طرف پاکستان کی پ“ بھی نہیں بننے دیں گے۔نعروں میں ایک نعرہ پاکستان کو پلیدستان کہہ کر لگایا جاتا تھا۔غرض کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سب کچھ تحریروں میں موجود ہے۔ان پارٹیوں میں جو پاکستان بننے کے سخت خلاف تھیں ایک مجلس احرار بھی تھی ( جو ہندو کانگریس کے وظیفہ خوار تھے اور پاکستان بننے کے خلاف پیش پیش۔جس کے بڑے رہنما چوہدری افضل حق ، مظہر علی اظہر اور حبیب الرحمن تھے )۔بیڈن روڈ لاہور میں ایک حکیم محمود الحسن صاحب تھے جولدھیانہ کے رہنے والے تھے۔ان کا مطب تھا۔ہومیو پیتھک ذریعہ سے علاج کرتے تھے مگر کہلاتے حکیم تھے۔عام طور پر لوگ ان کو