یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 61 of 117

یادوں کے دریچے — Page 61

یادوں کے دریچ 61 عزیزم مبارک احمد سلمک اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ صحت بخشے۔ان دنوں تو صحت درست رہنی چاہئے تا کہ اچھی طرح کام کر سکو۔اللہ تعالیٰ تم لوگوں کا حافظ و ناصر ہو۔میری تو ساری اولا دہی قادیان میں ہے اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کے ساتھ ان کا نگران ہو۔وہ سب اسی کے بندے ہیں اس سے ہمیں فضل ہی کی امید ہے۔بخشش اور فتح کی صورت میں دے تو اس کا احسان ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد 13-9-47 قادیان میں قیام کے عرصہ میں لکھے گئے جو خطوط میرے پاس محفوظ ہیں ان میں یہ آخری خط ہے۔اس خط سے دو باتیں اُبھر کر سامنے آتی ہیں۔اول یہ کہ شدید خطرہ کی حالت میں بھی جماعت کو مقدم رکھا اور اپنی اولاد کو مؤخر۔جو ان الفاظ سے واضح ہے ” میری تو ساری اولا دہی قادیان میں ہے۔اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کے ساتھ ان کا نگران ہو۔دوئم یہ کہ اپنی ساری اولاد کا دین کی راہ میں قربان ہونے کے امکان کا نہ کوئی خوف تھا اور نہ پریشانی۔ہاں اللہ تعالیٰ سے اس قدر استد عا فرمائی کہ ” بخشش اور فتح کی صورت میں دے تو اس کا احسان ہے“۔کھانے میں انصاف قادیان سے آنے والوں کے لئے لاہور میں رتن باغ کے وسیع احاطے میں خیمے وغیرہ لگا کر رہائش کا انتظام اباجان نے ذاتی طور پر کیا۔رتن باغ کی کوٹھی میں ہی حضرت ابا جان اور خاندانِ حضرت مسیح موعود کے جملہ افراد کی رہائش تھی اور اڑھائی تین ہزار سے کم لوگ تو نہ ہوں گے۔شاید زائد ہی ہوں مجھے صحیح تعداد کا علم نہیں۔بہر حال جملہ افراد کے لئے رہائش اور کھانے کے اخراجات ابا جان نے اپنے ذمہ لئے۔ان حالات میں اخراجات کے لئے رقم بھی محدود میسر تھی۔ذرائع آمد