یادوں کے دریچے — Page 50
50 عزیزم مبارک احمد سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ تمہارا خط ملا۔اللہ تعالیٰ تمہاری اس نیت کو قبول کرے۔دراصل یہی راستہ ہمارے خاندان کی کامیابی کا ہے۔جبکہ اسلام کی لڑائی کا وقت ہے اس وقت ہمارے آدمیوں کا اور کام کرنا اول درجہ کی غداری ہے اور ایسا گناہ جو شاید کبھی نہ بخشا جائے۔مجھے تمہارے اس خط سے بے انتہا خوشی ہوئی ہے اور۔۔جو زخم تھے ان کا اند مال تو نہیں ہو سکا مگر ان کی جلن میں اس نے کمی کر دی ہے۔کسی کے قبول اسلام پر تقریب کا انعقاد والسلام خاکسار مرزا محمود احمد جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔گرمیوں کے موسم میں ابا جان چند ماہ کے لئے کسی پہاڑ پر تشریف لے جاتے تھے۔پہاڑ پر جانے کا مقصد کوئی سیر و تفریح نہ تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ شدید گرمی میں اتنا کام نہ کر سکتے تھے جو کرنا چاہتے تھے۔ابا جان، خاندان کے چند افراد اور اپنے عملہ کے ہمراہ ڈلہوزی پہاڑ پر مقیم تھے کہ انگلستان سے ایک انگریز کے قبول اسلام کی اطلاع بذریعہ تار ملی۔آپ کو اس اطلاع سے بے حد خوشی پہنچی۔آپ نے باہر کہلا بھجوایا کہ اس خوشی میں کل ”دیان کنڈ ( ڈلہوزی سے چند میل کے فاصلہ پر ایک خوبصورت پہاڑی تھی ) پکنک کے لئے چلیں گے۔وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا کہ آج اس خوشی میں جملہ دوست کچھ اشعار کہیں اور یہ انعامی مقابلہ ہوگا۔جس کے اشعار اول قرار دیئے گئے ان کو میں دس روپے انعام دوں گا۔فیصلہ کے لئے حج مقرر فرمائے جن میں آپ خود، عبدالرحیم درد صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب مقرر کئے۔لیکن ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ انعام کے لئے مجھے زیر غور نہ لایا جائے گا۔غرض سب نے بشمول ابا جان فی البدیہہ اپنی اپنی نظم یا رباعی سنانا شروع کی۔قافلہ کے افراد میں آپ کے ایک پہرے دار عبدالاحد خان