یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 3 of 117

یادوں کے دریچے — Page 3

یادوں کے دریچے 3 عرض ناشر تاریخ انصار اللہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلس انصار اللہ (مرکزیہ ) کی طرف سے ٹریکٹس اور پمفلٹس کی اشاعت کا سلسلہ اکتوبر 1956 ء سے اس وقت شروع ہوا جب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہایت معرکۃ الآراء کتاب کشتی نوح میں بیان تعلیم المعروف "ہماری تعلیم " چار ورقہ بروشر کی صورت میں پاکیزہ تعلیم کے نام سے شائع ہوئی۔اس کے کچھ عرصہ بعد 1963ء میں مکرم مسعود احمد خاں صاحب دہلوی قائد اشاعت کی دو تحریر میں بعنوان " ختم نبوت کی حقیقت کا مہتم بالشان اظہار " اور "غلبہ اسلام کی آسمانی سکیم " رسالوں کی صورت میں شائع ہوئیں۔قیادت اشاعت کے تحت با قاعدہ طور پر پہلی بار 1966ء میں کتاب " اطاعت اور اس کی اہمیت " منظر عام پر آئی۔تاریخ انصاراللہ جلد اول صفحہ 135) اس کے بعد قیادت تربیت ، قیادت اصلاح و ارشاد اور قیادت اشاعت کی طرف سے چھوٹے چھوٹے دو ورقہ ، چار ورقہ بروشر نما پمفلٹس اور خطبات خلفاء عظام کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔قیادت اشاعت کے تحت 1983 ء تک 22 پمفلٹس کا ریکارڈ تاریخ انصاراللہ جلد اول صفحہ 135-137 ، جلد دوم صفحہ 268 اور جلد سوم صفحہ 636 میں محفوظ ہے۔1980ء کی دہائی، حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا دور صدارت تاریخ مجلس انصار اللہ (مرکزیہ ) حال پاکستان کا وہ اہم موڑ ہے جہاں دیگر کتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔دوقمری صدیوں کے سنگم کی کتاب ” چودھویں اور پندرھویں صدی کا سنگم“ شائع کرنے کی سعادت ملی، 1987ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تحریر ” ذکر حبیب“ کی اشاعت کی توفیق ملی۔اس طرح مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے تحت 12 کتب اور 22 بروشر ز شائع ہوئے۔ان میں بعض کے تراجم بیرون پاکستان انصار کے استفادہ کے لئے انگریزی میں شائع کروائے گئے۔3 نومبر 1989ء کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے ذیلی تنظیموں میں ملکی صدارت کا نظام جاری فرمایا تب سے اب تک انصار کی تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کے لئے 49 کتب کی اشاعت ہو چکی ہے۔جن میں سے صرف 20 کتب مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب سابق صدر مجلس کے دور