یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 32 of 117

یادوں کے دریچے — Page 32

32 بھی اچھے سٹوروں میں دستیاب ہیں نیز نیو بانڈ سٹریٹ میں درزیوں کی دکانیں بھی ہیں جہاں ماپ دے کر سوٹ سلوا سکتے ہو۔فی الحال بنے بنائے ایک دوسوٹ خرید لو ، ساتھ میچ کرتی ہوئی ٹائیاں ، قمیض وغیرہ بھی خرید واور وہ پہنو۔اس دن کے بعد سے میں نے حسب ضرورت سوٹ پہنا شروع کر دیا۔یہ ایک طرح کی مجبوری بھی ہے غیر ملک کے سفروں میں شلوار میض نہیں چل سکتی ، نہ یہ کپڑے دھلوائے جا سکتے ہیں، نہ ستھرے رہ سکتے ہیں، نہ دھلائی کے اخراجات برداشت کئے جاسکتے ہیں۔حضرت مرز اسلطان احمد صاحب کی بیعت بچوں کو حفظ مراتب کی تربیت دینے کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل خود آپ کا نمونہ لکھنا ضروری ہے۔ہمارے تایا جان حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود کی پہلی زوجہ محترمہ کے بطن سے تھے نے آپ کی بیعت نہ کی تھی۔آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔اس تمہید کے بعد بیعت کا واقعہ لکھ رہا ہوں جس کا میں خود شاہد ہوں۔جب حضرت تایا جان نے بیعت کرنا چاہی تو حضرت مصلح موعودؓ خود تایا جان کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر بیعت لی۔یہ بڑے بھائی کے احترام کی وجہ سے تھا۔خلافت کا مقام اپنی جگہ اور بڑے بھائی کا احترام اپنی جگہ۔اس سے بڑھ کر حفظ مراتب کی شان کہاں مل سکتی ہے۔ہمیں بچپن سے ہی حفظ مراتب سکھایا جاتا اور نگرانی بھی کی جاتی کہ بچوں کو یہ سبق یاد ہے یا نہیں۔ہم بھائی بہن کئی ماؤں کی اولاد ہیں اس لئے بعض بھائی بہنوں میں سال دو سال کا عمر کا فرق ہے۔لیکن اتنے تھوڑے فرق سے بھی کسی بچے کی مجال نہیں تھی کہ اپنے بڑے کی عزت اور احترام میں کوتا ہی نہ کرے۔ابا جان کی زندگی میں سگے سوتیلے کی کوئی دیوار ہم بھائی بہنوں میں کھڑی نہ کی جاسکی۔اس ضمن میں مجھ سے جو ایک غفلت ہوئی اس کا ذکر بھی کر دیتا ہوں۔غیرت دینی کا واقعہ ہمارے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد صاحب کو قرآن کریم حفظ کروانے کا فیصلہ ابا جان نے کیا۔ایک حافظ صاحب کو اس کے لئے مقرر فرمایا۔ہماری رہائش والے مکان کے صحن میں بھائی کھڑے