یادوں کے دریچے — Page 90
90 دو پہر کے کھانے پر مدعو کیا۔حضرت ابا جان نے دعوت قبول فرمائی۔لیکن یہ شرط لگا دی کہ دال روٹی کے سوا اور کوئی چیز کھانے پر نہ رکھی جائے۔کھانے پر حضرت ابا جان ، ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور خاکسار مدعو تھے۔مجھے آج تک وہ نظارہ نہیں بھولتا۔جب ان کے گھر پہنچے تو ان کے چہرہ پر جو خوشی اور مسرت تھی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔یوں لگتا تھا جیسے سارے جہان کی نعمتیں ان کی جھولی میں آ گئی ہیں۔اس جگہ یہ ذکر بھی کر دوں کہ ابا جان کی عائد کردہ شرط کے مطابق ہی کھانا تھا یعنی روٹی اور دال۔دال مٹی کے پیالوں میں ڈال کر ہر مہمان کے سامنے رکھی گئی۔1953ء کے فسادات 1953ء میں لاہور میں جماعت کے خلاف سخت اشتعال انگیز تحریک چلائی گئی اور مولویوں کی مدد سے احمدیوں کو قتل کرنے ، ان کی املاک کو تباہ کرنے کی اس مہم کے پیچھے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ تھے جو دراصل پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ان کے نزدیک سب سے سستا اور آسان طریق چند مولوی خرید کر جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک چلا کر حاصل کیا جا سکتا تھا۔غرض فسادات کے شعلے بلند ہونے لگے اور مجبوراً حکومت پاکستان کو لاہور میں مارشل لاء لگا نا پڑا۔ممتاز دولتانہ صاحب کی ایک اور سکیم بھی تھی کہ حضرت مصلح موعودؓ کو گرفتار کر لیا جائے اس طرح جماعت میں شدید رد عمل ہو گا اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جائے گا اور اس طرح بھی دولتانہ صاحب کی راہ ہموار ہو گی۔ان دنوں جماعت احمدیہ کراچی کے امیر چو ہدری عبداللہ خان صاحب تھے۔حکومتِ پاکستان کا دار الحکومت بھی کراچی تھا اور جناب ملک غلام محمد صاحب پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔گورنر جنرل صاحب کو ان فسادات کی اطلاع پہنچی اور ساتھ ہی سی۔آئی۔اے کے ذریعہ اس امر کا علم ہوا کہ ممتاز دولتانہ کی نیت حضرت صاحب کو قید کرنے کی ہے تو گورنر جنرل صاحب نے فوری طور پر امیر جماعت کراچی چوہدری عبداللہ خان صاحب سے رابطہ پیدا کر کے ان سے کہا کہ آپ حضرت صاحب کو فوری کراچی لے آئیں ان کو یہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔لیکن اس