یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 57 of 117

یادوں کے دریچے — Page 57

یادوں کے دریچ 57 دیگر علماء قادیان میں رہائش رکھتے تھے ) امامت کے لئے محراب میں کھڑے ہوئے اور جملہ احباب سے خطاب کیا کہ اس وقت ہم سخت خطرہ کی حالت میں ہیں۔ہتھیار بھی ہم نہیں رکھ سکتے اس لئے سب کو تحریک کرتا ہوں کہ کم از کم مضبوط ڈنڈے ہر شخص اپنے پاس ہر وقت رکھے۔اس اعلان کے سننے کے بعد میں واپس دار مسیح میں آیا ہوں اور خاکی وردی میں نے پہن لی ہے اور ادھر اُدھر کافی شور اور بندوقوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔میں اس وقت دار مسیح کی نچلی منزل میں جس میں کنواں بھی ہے اس کے برآمدہ میں کھڑا ہوں اور دن رات ڈیوٹی دینے سے اتنا تھک چکا ہوں کہ ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ہوں کہ کچھ تو آرام ملے گا۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا شروع کی ہے کہ دار مسیح اور اس کے قریب کے گھر وغیرہ اگر ہمارے قبضہ میں رہیں تو پھر خیر ہے۔اس خواب کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ کبھی خیال آتا کہ حضرت ابا جان کو اپنی خواب لکھوں۔کبھی خوف آتا کہ میری کیا حیثیت ہے جو یہ جرات کروں۔بہر حال لکھنے کا فیصلہ کر ہی لیا اور ایک ملازمہ کے ہاتھ خواب لکھ کر حضرت ابا جان کی خدمت میں بھجوا دی۔ملازمہ واپس آئی تو میں نے پوچھا کہ ابا جان نے پڑھ لیا تھا ؟ کہنے لگی کہ پڑھ لیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ بہت اہم خواب ہے میں اس کو اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔تفاصیل تو ایک طرف لیکن مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب کا ناظر اعلیٰ و امیر جماعتہائے احمد یہ ہندوستان مقرر کیا جانا تو اس وقت کسی کے تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ابا جان نے ایک نوجوان کی خواب کو (جس کی عمر اس وقت 18 سال تھی جو 1932 ء یا 1933ء میں آئی تھی اور بظاہر ایسے حالات پیدا ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ) اہمیت دینا پیشگوئی مصلح موعود کے وہ الفاظ کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا کا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ ہزاروں مثالیں ہوں گی جو اپنوں اور غیروں کے مشاہدہ میں آئی ہوں گی۔یہ تو دریا کا ایک قطرہ ہے۔اس جگہ یہ بھی دیکھئے کہ سترہ سال بعد جب یہ خواب ظاہراً بھی پوری ہوئی تو اولاً آپ کو یہ خواب یاد تھی۔دوئم آپ نے مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب کو ہی ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ اورامیر جماعتہائے ہندوستان مقررفرمایا۔" مسلمانوں کی جان اور عزت کی فکر تقسیم ہند کے معاً بعد جب قتل و خون کا بازار گرم تھا اور افراتفری کی حالت تھی اور مسلمانوں کی جان اور عزت کے سامان مفقود تھے۔ابا جان نے اعلان کروایا کہ جو بھی مسلمان قادیان آسکتے ہوں