یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 37 of 117

یادوں کے دریچے — Page 37

37 خط کا متن عزیزم مبارک احمد سلمك الله تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ خیریت سے لے جائے اور خیریت سے لائے اور اپنی رضا مندی کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔تمہارا سفر تو عربی اور زراعت کی تعلیم اور ترقی کے لئے ہے لیکن چھوٹے سفر میں اس بڑے سفر کو نہیں بھولنا چاہئے جو ہر انسان کو در پیش ہے۔جرنیل جرنیلوں کے ، مدبر مدبروں کے ، بادشاہ بادشاہوں کے حالات پڑھتے رہتے ہیں تاکہ اپنے پیشروؤں کے حالات سے فائدہ اٹھائیں۔اگر تم لوگ اہلِ بیت نبوی کے حالات کا مطالعہ رکھو تو بہت سی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاؤ گے۔انسان کا بدلہ اس کی قربانیوں کے مطابق ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں یہ نہ ہوگا کہ لوگ تو قیامت کے دن اپنے عمل لے کر آئیں اور تم وہ دنیا کا مال جو تم نے دنیا میں حاصل کیا ہے۔اے میرے صحابہ ! تم کو بھی اپنے اعمال ہی لا کر خدا کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔اہلِ بیت نبوی کو جو عزت آج حاصل ہے وہ رسول کریم ﷺ کی اولاد ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر جو قربانیاں کی ہیں ان کی وجہ سے ہے۔1 - تم اب بالغ جوان مرد ہو۔میرا یہ کہنا کہ نماز میں با قاعدگی چاہئے ایک فضول بات ہوگی۔جو خدا تعالیٰ کی نہیں مانتا وہ بندے کی کب سنتا ہے۔اگر تم میں پہلے سے با قاعدگی ہے تو میری نصیحت صرف ایک زائد ثواب کا رنگ رکھے گی اور اگر نہیں تو وہ ایک صدا بہ صحراء ہے۔مگر پھر بھی میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ نماز دین کا ستون ہے۔جو ایک وقت میں بھی نماز کو قضاء کرتا ہے دین کو کھو دیتا ہے۔اور نماز پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ باجماعت ادا کی جائے۔اچھی طرح وضو کر کے ادا کی جائے۔ٹھہر کر ، سوچ کر اور معنوں پر غور کرتے ہوئے ادا کی جائے اور اس طرح ادا کی جائے کہ توجہ کلی طور پر نماز میں ہوا اور یوں معلوم ہو کہ بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم سے کم یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔جہاں دو مسلمان بھی ہوں ان کا فرض ہے کہ باجماعت نماز ادا کریں بلکہ جمعہ بھی ادا کریں اور نماز سے قبل اور بعد ذکر کرنا نماز کا حصہ ہے۔جو اس کا تارک ہو وہ نماز کو اچھی طرح پکڑ نہیں سکتا اور اس کا دل نماز